خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 769 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 769

خطبات طاہر جلد 14 769 خطبہ جمعہ 13 اکتوبر 1995ء مطلب نہیں ہے کہ کسی نے جان بوجھ کر نعوذ باللہ من ذالک بالا مضمون سے انحراف کر کے کوئی اور بات پیدا کی ہے۔جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے بعض دفعہ فرشتوں کا تصور بھی مختلف ہے۔حضرت مصلح موعودؓ کی کتاب ملائكة الله آپ پڑھیں تو اس سے پتا چلے گا کہ تمام صفات دراصل فرشتوں کے زیر نگیں ہیں اور صفات اور فرشتے آپ کے نزدیک بعض دفعہ ایک ہی چیز کی دوصورتیں دکھائی دیتی ہیں۔تو اس لئے میں اشارہ کر رہا ہوں کہ وہاں تضاد دور کرنے کے لئے ایک ہی راہ ہے کہ ہم یہ سمجھیں کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرشتوں کو عام انسانی تصور کے مطابق ہرگز نہیں لیا۔نہ عرش کا وہ معنی سمجھا ہے جو عرف عام میں سمجھا جاتا ہے کیونکہ تفسیر صغیر تھی تفصیل کی بحث وہاں موقع نہیں تھا اس لئے مختصر لفظ استعمال کیا ہے جو قرآن سے یوں ہی معلوم ہوتا ہے کہ ایسا ہی ہوگا مثلاً وَانْشَقَتِ السَّمَاءِ فَهِيَ يَوْمَبِذْقَاهِيَةٌ (الحافة: 17 ،18) اور آسمان پھٹ جائے گا اور وہ اس دن بودا دکھائی دے گا وَ الْمَلَكُ عَلَى اَرْجَابِهَا اور فرشتے اس کے کناروں پر ہوں گے وَيَحْمِلُ عَرْشَ رَبَّكَ فَوْقَهُمْ يَوْمَبِذٍ ثَمُنِيَةٌ اور اس دن آٹھ طاقتیں ثَانِيَةٌ آٹھ طاقتیں عرش الہی کو اٹھائے ہوئے ہوں گی۔اب چونکہ پہلے فرشتوں کا ذکر کیا گیا تھا اس لئے سیاق و سباق کے پیش نظر اگر ان طاقتوں کو فرشتے کے نام سے ظاہر کیا گیا ہوتو یہ میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ اگر کوئی شخص لفظ فرشتہ پر زور دے تو اس کو میرا جواب ہے جو میں پہلے دے چکا ہوں۔اگر کوئی یہ کہے کہ حضرت مصلح موعود اور دوسرے مضامین میں تضاد ہے تو اصل اس کا جواب یہ ہے کہ تضاد نہیں، تم سمجھ نہیں سکے ، حضرت مصلح موعود کی نظر فرشتوں کے مضمون پر بہت گہری اور وسیع تھی جس نے کتاب ملائكة اللہ کا مطالعہ کیا ہو وہ جسمانی تصور حضرت مصلح موعودؓ کی طرف منسوب کر ہی نہیں سکتا، نہ عرش کا نہ فرشتوں کا۔اس لئے فرشتہ کہنے کے باوجود آپ فرشتوں کو صفات الہی کا مظہر ہی سمجھتے ہوں گے جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے۔یہ میں اس لئے بہت کھل کر تفصیل بیان کر رہا ہوں کہ بعض نیم پڑھے ہوئے لوگوں کا یہ طریق ہے کہ ساری بات پر نظر ہوتی نہیں ایک بات کہیں اور دکھائی دے دی اور اعتراض شروع کر دیئے اور خطوط کی بھر مار شروع کر دی کہ آپ نے تو یہ کہا ہے مصلح موعودؓ نے تو وہ کہا ہے تو بعد میں جو میں جواب دیہیاں کرتا رہوں میں ابھی سے کھول دیتا ہوں بات مجھے پتا ہے کیا کہا ہے مگر میں اس کا