خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 766 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 766

خطبات طاہر جلد 14 766 منظر اک بلندی پر اور ہم بنا سکتے خطبہ جمعہ 13 اکتوبر 1995ء عرش سے پرے ہوتا کاش کہ مکاں اپنا دیوان غالب : 89) یہ تو کہتے ہیں کہ ہمارا بنایا ہوا منظر ہے لیکن یہ ظلم کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف جن پر ایسی بیان کتاب اتری ہے۔جس کی کوئی مثال الہی کتابوں میں دکھائی نہیں دیتی۔قرآن میں پڑھ کر دیکھیں کہیں اس قسم کی واہیات باتیں اشارہ بھی موجود ہیں؟ لیکن باقی کتب میں بعد میں انسان نے کچھ باتیں داخل کر دیں مگر اللہ تعالیٰ نے قرآن کی حفاظت فرما کر ہمیشہ ہمیش کے لئے انسانیت کو فتنوں سے بچالیا ہے۔جو بھی حدیث منسوب ہو اور قرآن کے تصورات سے ٹکراتی ہو، قرآن کی طرز بیان سے ٹکراتی ہو، قرآن میں مذکور حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی شخصیت اور آپ کی ذات سے ٹکراتی ہو وہ رد کرنے کے لائق ہے ہرگز وہ محمد رسول اللہ ﷺ کا کلام نہیں ہو سکتا۔اب یہ حدیث جو ہے عبد بن حمید، یہ بھی در منشور ہی کا کارنامہ ہے اور ایک صحابی کی معرفت رسول اللہ ﷺ تک مرفوع کی گئی ہے۔حضرت میسرہ سے روایت ہے کہ عرش اٹھانے والوں کے پاؤں زمین کی تہہ میں ہیں اور ان کے سرعرش کو پھاڑ کر نکلے ہوئے ہیں یعنی نعوذ باللہ من ذالک خدا جہاں جسمانی طور پر بیٹھا ہوا ہے اس کی پیٹھ تخت سے نہیں لگ رہی کیونکہ جو اٹھانے والے ہیں وہ اتنے لمبے تھے کہ پاؤں زمین کی تہہ میں لیکن قد عرش کو پھاڑ کر اوپر نکلے ہوئے ہیں اور انتہائی خشوع کی حالت میں ہیں۔اپنی آنکھیں اوپر نہیں اٹھاتے۔ساتویں آسمان والوں سے وہ سخت خوف میں ہیں اور ساتویں آسمان والے اپنے سے نچلے آسمان والوں سے شدید خوف میں ہیں اور اپنے سے نیچے آسمان والوں سے شدید خوف میں ہیں۔( عبد بن حمید، بحواله در منثور، سورہ المومن زیر آیت 8) اوپر والوں کا خوف کوئی نہیں نچلوں کا ہی خوف ہے صرف اور یہ عجیب بات ہے کہ ساتو میں آسمان کے اوپر عرش ہے اس پر ان کو بٹھایا اور عرش سے اوپر سر نکال دیئے۔یہ اس رسول کی طرف منسوب ہوا ہے جس کے متعلق قرآن گواہی دیتا ہے کہ آپ کے معراج کے ارتقائی سفر میں جو آپ کی روحانیت کا سفر تھا اس میں عرش سے پہلے آپ رک گئے ہیں اور آگے کسی کو مجال نہیں ہے۔وہ عرش یعنی معنوی عرش جو تنز یہی عرش ہے اس کا ذکر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے حوالوں سے میں کروں گا تو پھر آپ کو سمجھ آئے گی کہ خدا سے نور یافتہ انسان،