خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 765 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 765

خطبات طاہر جلد 14 765 خطبہ جمعہ 13 اکتوبر 1995ء انا اليه راجعون۔وہ کہتے ہیں چار نہیں آٹھ ہیں اور یہ حدیث جس نے بھی بنائی ہے اس کی قرآن کریم کی ایک آیت پر نظر ہے جس میں آٹھ کا ذکر ملتا ہے۔اگر چہ فرشتوں کا ذکر وہاں نہیں ہے۔ابوالشیخ وابن ابی حاتم بحوالہ در منشور۔کہتے ہیں عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ عرش کو اٹھانے والے آٹھ ہیں۔ان میں سے ایک کے گوشہ چشم سے، آنکھ کے ایک کونے سے، اس کی آنکھوں کے پچھلے حصے تک پانچ سوسال کی مسافت ہے۔(ابوالشیخ وابن ابی حاتم، بحوالہ در منور للسیوطی، سورہ المومن آیت 8)۔یہ دیو مالائی کہانیوں کو بھی مات کرنے والی باتیں ہیں اور پتہ نہیں کون سے مصنف تھے جو اس زمانے میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ان کے اور عقل کے درمیان کروڑوں سال کا فاصلہ تھا، یہ میں کہہ سکتا ہوں۔فرشتوں کی آنکھوں اور پچھلے حصے میں تو پتا نہیں کتنا فاصلہ تھا مگر ان وضع کرنے والوں اور عقل کے درمیان کروڑہا میل کا فاصلہ ہوگا یہ کروڑ ہا Light Years کا فاصلہ قرار دیا جائے تو مبالغہ نہیں ہوگا اور پھر ظلم کتنا کہ رسول اللہ ﷺ کی طرف باتیں منسوب کر رہے ہیں۔ایک حدیث جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف منسوب ہوئی ہے مگر یہ حدیث جو ہے ایک ایسی کتاب میں موجود ہے جو کتاب اپنے لحاظ سے وقعت رکھتی ہے اور اس میں اس کا پایا جانا بہت بڑا ظلم ہے۔سنن ابی داؤد میں یہ حدیث آئی ہوئی ہے اور یہ درست ہے کہ صحاح میں بھی کئی دفعہ ایسی حدیثیں آئی ނ ہیں جن میں اندرونی شہادت اس بات کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا کلام نہیں ہوسکتا۔یہ بھی انہی میں۔ایک ہے۔حضرت جابر کی روایت بیان کی گئی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھے اذن ملا ہے کہ میں عرش اٹھانے والے فرشتوں میں سے ایک فرشتے کے بارے میں کچھ بتاؤں جس کے کانوں کی لو سے اس کے کندھوں تک سات سال کی مسافت ہے ( سنن ابی داؤد کتاب السنتہ باب فی انھیم )۔اب فرشتوں کا سارا تصور ہی مکانی، مادی تصور اور ایسا عجیب و غریب تصور جو آپ کو یونانی دیو مالائی کہانیوں میں بھی نہیں ملے گا ان کا تصور بھی اس کے مقابل پر بہت محدود ہے۔یعنی لو سے لے کر کندھے تک سات سو سال کی مسافت ہے۔یہ ان لوگوں کی بنائی ہوئی حدیثیں ہیں جنہوں نے عرش کو اونچا کرنے کی کوشش کی ہے۔وہ کہتے ہیں عرش الہی تو پھر بہت ہی اونچا ہو گا تو جن فرشتوں نے اٹھایا ہوا ہے ان کا بھی تو قد کافی ہونا چاہئے۔یہ اس تصور کی پیداوار حدیثیں ہیں بالکل واضح طور پر اس سے تو غالب بہتر نکلا، اس نے تو یہ کہا ہے صرف کہ: