خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 732 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 732

خطبات طاہر جلد 14 732 خطبہ جمعہ 29 ستمبر 1995ء کس طرح جماعتی معاملات میں صبر سے عاری ہو جاتے ہیں۔اب مخالف کے دکھ پر صبر کرنا یہ دکھ بہت بڑا ہوتا ہے لیکن اس کے مقابل پر صبر نسبتا آسان ہے کیونکہ علم کلا فیصلہ ہے ایک انسان کو پتا ہے کہ اس کے بدلے مجھے ارتداد اختیار کر نا پڑے گا، خدا کا دامن چھوڑنا پڑے گا کھلم کھلا ، اسے اپنی ہلاکت دکھائی دے رہی ہوتی ہے وہ پاگل تو نہیں ہو گیا کہ وہ اس امتحان میں ناکام ہو جائے۔مگر جہاں ہلاکت ایسی واضح دکھائی نہیں دیتی جہاں اندرونی امتحانات ہوں وہاں بسا اوقات انسان دھو کہ کھا جاتا ہے۔قرآن کریم نے ماں باپ کے دکھوں پر بھی صبر کی تلقین فرمائی ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ سب سے بہتر جانتا ہے کہ ماں باپ کے رشتے میں طبعی خونی تقاضا یہ ہے کہ بچہ باپ کی اطاعت کرے، ماں کی اطاعت کرے اور ان سے ادب کا سلوک کرے لیکن اللہ چونکہ انسانی فطرت کی باریکیوں پر نظر رکھتا ہے اس لئے جانتا ہے کہ انسان ایسی خود غرض چیز ہے کہ جتنے بھی احسانات ہوں اگر کسی ایک موقع پر احسانات میں کمی آجائے یا وہ یہ سمجھے انسان کہ دوسرے پر زیادہ احسان کر دیا ہے مجھ پر کم کر دیا ہے تو ہر احسان کو بھلا کر سرکشی اختیار کر جاتا ہے اور ایسی سرکشی بسا اوقات خدا کے مقابل پر بھی ہو جاتی ہے۔کوئی بیماری پڑی ہے جب تک بیمار نہیں تھا دوسروں کی بیماریاں دیکھیں، ان کے دیکھ دیکھے، ان کو صبر کی تلقین کی اور جب اپنے اوپر آپڑی تو کہا یہ کیسا خدا ہے میں نے بڑی دعائیں کیں، کوئی قبول نہیں ہوئی، میرا بچہ میرے سامنے سکتا سکتا مر گیا، اسی کو حادثہ در پیش آنا تھا، اسی کو یہ مشکل پیش آنی تھی، گویا ساری کائنات وہی ہے اور کوئی ہے ہی نہیں۔ساری کائنات کے دکھ دیکھتا ہے اور اس کو خدا تعالیٰ پر کوئی شکوہ پیدا نہیں ہوتا۔اپنا دکھ جس کے مقابل پر دوسرے دکھ بعض دفعہ سینکڑوں گنا زیادہ ہوتے ہیں، بعض قومی دکھ ہیں ساری قومیں ان دکھوں میں برباد کر دی جاتی ہیں اور ہرلمحہ آزمائی جاتی ہیں وہ دیکھتا ہے کہتا ہے او ہو بڑی بہادر قوم ہے، اپنے اوپر جب وہ دکھ پڑتا ہے تو سب باتیں بھلا کر خدا کا بھی ناشکرا ہو جاتا ہے۔پس اس لئے اللہ تعالیٰ نے جہاں اپنی عبادت اور توحید کی تعلیم دی وہاں فوری توجہ دلائی وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا (البقرہ: 84) کہ میرے حق تو ادا کرو، ضرور کرنے ہیں تم نے ، اس کے بغیر تو تمہارا چارہ کچھ نہیں مگر یاد رکھنا والدین کے ساتھ بھی احسان کا سلوک کرنا اور پھر فرمایا کہ اگر وہ تم پر