خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 731
خطبات طاہر جلد 14 731 خطبہ جمعہ 29 ستمبر 1995ء دکھاتے مگر باریک راہوں پر جو سبل کی باریک راہیں ہیں، جو باریک رستے کہلاتے ہیں ان میں آ کر وہ صبر کا دامن چھوڑ دیتے ہیں۔بعض ایسے ہیں جو دشمن کی ایذاء رسانی پر تو ثابت قدم رہتے ہیں مگر اپنوں کی ایذاء رسانی پر صبر نہیں دکھاتے۔پس صبر کا مضمون اتنا آسان اور سیدھا مضمون نہیں ہے کہ ایک دو مثالیں اس کی آپ پر صادق آجائیں تو آپ سمجھیں کہ آپ نے صبر کے امتحان پاس کر لئے ہیں۔اس کے بہت سے درجے ہیں، بہت سے امتحانات ہیں اور بظاہر یہ الٹ بات ہے مگر امر واقعہ یہ ہے کہ صبر وغیرہ کے مضمون میں بڑے امتحان پہلے انسان پاس کرتا ہے چھوٹے امتحان بعد میں در پیش آتے ہیں اور جتنے امتحان چھوٹے ہوتے چلے جائیں اتنے ہی مشکل ہوتے چلے جاتے ہیں۔جتنی راہیں تقویٰ کی باریک ہوں اتنا ہی ان پر قدم مارنا اور ان پر اپنے توازن کو سنبھالنا زیادہ مشکل مسئلہ بنتا چلا جاتا ہے۔اس لئے وہ جو بڑی راہوں پر چلنے والے تھے شان سے ، وہ چھوٹی راہوں پہ مارے جاتے ہیں۔اس لئے اپنی باریک راہوں کا خیال کریں۔تقویٰ کی باریک راہیں ہیں جہاں اصل امتحان اور مشکل امتحان در پیش ہوتا ہے۔وہاں جو کامیاب ہو اس کو بڑے مرتبے ملتے ہیں۔انہی میں سے پھر وہ انبیاء ہیں جن کے متعلق اللہ فرماتا ہے لَمَّا صَبَرُوا۔ہم نے ان کو مہدویت اور امامت کے مقام تک پہنچا دیا۔لَمَّا صَبَرُوا جب ہماری نظر میں وہ صبر کرنے والے ثابت ہوئے۔یہ جورا ہیں ہیں ان کی روزمرہ کی جماعت میں مثال سامنے آتی ہے اور بعض ایسے جو دیکھنے میں بڑے بڑے سورما نظر آتے تھے، مخالفوں کے مقابل پر ڈٹے رہے، پاکستان کے حالات میں بھی مقابلے کئے لیکن میں نے دیکھا چھوٹی راہوں پہ آکے مار کھا گئے اور اندرونی طور پر ناکام ثابت ہوئے اور بعض دفعہ جب ایسے امتحانات میں انسان ناکام ہو جائے تو پچھلے سارے امتحان بھی بے کار ہو جاتے ہیں کیونکہ الہی نظام امتحانات میں وفا لا زم ہے اور آخر وقت تک ثابت قدم رہنا اور ہر امتحان میں کامیاب ہوتے چلے جانا ضروری ہے۔اگر نہیں ہوئے تو استغفار کریں پھر امتحان دیں، اگر کامیاب نہ ہوئے اور آخری امتحان میں ناکامی کی حالت میں مرے تو چھلی ساری نیکیاں باطل۔اس لئے بہت ہی اہم مضمون ہے جس کی طرف میں آپ کو توجہ دلا رہا ہوں۔مثلاً باریک نظر سے اپنے جماعتی تعلقات میں رد عمل کو دیکھیں ، تو آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ بظا ہر بڑے بڑے صبر کرنے والے