خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 733 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 733

خطبات طاہر جلد 14 733 خطبہ جمعہ 29 ستمبر 1995ء زیادتی بھی کریں تو اف تک نہیں کہنی۔اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان میں یہ رجحان ہے کہ ماں باپ کے باقی سب احسان بھلا کر کہیں زیادتی ہو تو اف کہہ بیٹھتے ہیں اور بعض ایسے بھی بد نصیب ہیں کہ صرف اس جھگڑے میں کہ فلاں بیٹے کو تم نے زیادہ دے دیا یا فلاں بیٹی کو زیادہ دے دیا ہے ماں باپ سے با قاعدہ لڑائی مول لے بیٹھتے ہیں، قضاؤں میں پہنچ جاتے ہیں، وہ جھگڑے پیچھا ہی نہیں چھوڑتے پھر۔کوئی اس بات کی حیا نہیں کرتے کہ احسان کا ذکر خدا نے فرمایا ہے تم پر ماں باپ نے رحم کیا تھا تم پر احسان کیا تھا تم بھی اس رحم کے مقابل پر احسان کا سلوک کرو۔عدل کا نہیں فرمایا اور اس میں بڑی حکمت ہے۔عدل کا ذکر نہ کرنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ان سے نا انصافی سے پیش آؤ۔مطلب یہ ہے کہ تم نے جب ماں باپ کے معاملے میں کوئی زیادتی دیکھنی ہے تو عدل کے جھگڑے میں نہ پڑ جانا۔یہ سوچنا کہ اللہ نے تمہیں احسان کی تعلیم دی ہے اور احسان عدل سے بالا ہے۔احسان میں عدل کے بکھیڑوں میں نہیں انسان پڑتا بلکہ احسان کا مطلب یہ ہے کہ کسی نے اگر کوئی زیادتی بھی کر دی ہے تو تم وسیع حوصلگی دکھاؤ، اس سے چشم پوشی کرو۔پس اللہ تعالیٰ جب ہم سے ہمارے گنا ہوں کو نظر انداز کرنے کا سلوک فرماتا ہے تو یہ احسان کا سلوک ہے۔اللہ جب بخشش کا سلوک فرماتا ہے تو احسان کا سلوک ہے اور اللہ تعالیٰ سب سے بڑھ کے صبور ہے ، سب سے زیادہ صبر دکھانے والا ہے یعنی بندے دکھ دیتے ہیں، احسانات کو بھلاتے ہیں اور بار بار خدا تعالیٰ کے لئے اگر وہ انسانی جذبات ہوں تو ہم یہ کہہ سکتے ہیں اذیت کا موجب بنتے ہیں حالانکہ اللہ کے لئے کوئی اذیت کا موجب نہیں بن سکتا۔مگر ان کا عمل ایسا ہے گویا وہ خدا کو اذیت پہنچانے سے بھی باز نہیں آتے۔ان پر اللہ کی نظر ہے، جانتا ہے کہ خالق اور مالک اور سب سے بڑے محسن سے اگر یہ سلوک ہے تو ماں باپ سے کیوں ایسا نہ کریں گے۔پس فرمایا دیکھو والدین سے احسان ضرور کرنا اور ان باتوں میں بے وجہ ان سے جھگڑا نہ کیا کرنا بلکہ اف تک نہیں کہنی۔یہی مضمون ہے جو جماعت میں بھی جاری ہوتا ہے اور اگر اس کو نہیں سمجھیں گے تو نظام جماعت میں رخنہ ڈالنے کا موجب بنیں گے کیونکہ وہ لوگ جو عام بڑی بڑی باتوں پہ صبر کر لیتے ہیں بعض دفعہ امیر کی طرف سے وہ سمجھتے ہیں کہ ہمارا حق ادا نہیں ہوا، تو سر اٹھا لیتے ہیں، بدتمیزی شروع کر دیتے ہیں، جھگڑے شروع کر دیتے ہیں۔کہتے ہیں تم نے فلاں کے ساتھ زیادہ اچھا سلوک کیا ہم سے۔