خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 730 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 730

خطبات طاہر جلد 14 730 خطبہ جمعہ 29 ستمبر 1995ء دنیا کی طاقت ہمارے ہاتھ صبر کے دامن سے چھڑا نہیں سکتی۔اور وَعَلَى اللهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكَّلُونَ پہلی جگہ فرمایا تھا الْمُؤْمِنُونَ اب وہ مومنوں کا ذکر ہو گیا ان کو متوکل بنا دیا اب مومنوں کو متوکل کے طور پر پیش فرمایا ہے کہ مومنوں کی جماعت اور الْمُتَوَكَّلُونَ کی جماعت ایک ہی چیز کے دو نام ہیں۔پس تو کل کرنے والے اللہ ہی پر تو کل کرتے ہیں کسی اور چیز پر توکل نہیں کرتے۔تو جماعت احمدیہ کا بھی تو کل خالصہ اللہ پر ہے اور صبر کے ساتھ ہم اس تو کل سے بھی چھٹے رہیں گے اور ہم نے اپنے ماضی کو دیکھا ہے دوسری مذہبی قوموں کے ماضی کو دیکھا ہے کبھی ایک بھی استثناء دکھائی نہیں دیتا کہ خدا کے بندوں نے اپنے انبیاء سے صبر کا مضمون سیکھا ہواور انبیاء کی طرح تو کل کیا ہو اور پھر خدا نے ان کو چھوڑ دیا ہو۔نبی کو تو صراط مستقیم عطا کی جس کے پیچھے یہ سب چلتے ہیں، اس کے ہر پیروکو وہ سبل عطا کیں، وہ راہیں عطا کیں جو پگڈنڈیاں بھی ہیں، چھوٹی چھوٹی راہیں بھی ہیں، جن میں سے ہر راہ میں خدا ان کے ساتھ چلا کرتا تھا۔کوئی راہ بھی ایسی نہیں تھی جس میں انہوں نے خدا کے ساتھ کے نشان نہ پائے ہوں پس جس کا ساتھی خدا ہو جائے وہ تو کل کیوں نہیں کرے گا۔اس میں دوسری حکمت کی بات یہ سمجھنے کے لائق ہے کہ وہ لوگ ہم میں سے جن کو یہ سبل عطا نہیں ہوئیں ، جن کے اندھیرے وقتوں میں خدا ان کے ساتھ نہیں دکھائی دیتا، جو بعض دفعہ دل چھوڑ بیٹھتے ہیں اپنی ذاتی مصیبتوں میں اور مشکلات میں اور تو کل سے کام نہیں لیتے ان کے لئے یہ معاملہ قابل فکر ہے۔نہ وہ ان مومنوں میں شمار ہوتے ہیں جن کی وہ صفات بیان کی گئیں ، نہ ان المُتَوَكَّلُونَ میں جنہوں نے تو کل کا پہلے پھل پایا تھا تب وہ تو کل عطا ہوا جو عظیم تر تو کل ہے، جو تمام دینی امور کے دکھوں پر بھی ان کا سہارا بن گیا۔اس لئے ہر انسان کے لئے اس میں ایک یہ بھی سبق ہے، ہر مومن کے لئے جو مومن کہلاتا ہے کہ وہ اپنی راہوں پر نگاہ تو ڈال کے دیکھے کہ کیا اس نے صبر سے کام لیا تھا ہر مشکل کے وقت، تو کل سے کام لیا تھا۔یہ جو دیکھنا ہے اس کے لئے بہت گہری نظر سے مطالعہ کی ضرورت ہے۔کئی ایسے لوگ ہیں جو سرسری طور پر اپنے گرد و پیش پر نگاہ ڈالیں گے اپنے حالات پر تجارتی نقصان ہوایا اور کئی قسم کی مشکلات درپیش ہوئیں، دعائیں کیں، اللہ نے کام کر دیا اور انہوں نے تو کل کیا لیکن یہ حقیقت میں پوری تصویر نہیں ہے۔مومنوں کے مختلف درجے ہیں بعض ایسے ہیں جو کھلم کھلا بے صبری نہیں