خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 729 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 729

خطبات طاہر جلد 14 729 خطبہ جمعہ 29 ستمبر 1995ء آتی ہے مگر چلتا تو کوئی ہے تب وہ انعام پاتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے کہ صبر کا پھل اتنا میٹھا ، اتنا عالی شان ہے کہ جن لوگوں کو ہم نے نبوت کے مراتب تک پہنچایا اور ان کے لئے چن لیا اس وجہ سے کہ انہوں نے صبر کیا۔اب یہاں صرف صبر کی خوبی کا بیان ہے اور کسی چیز کا نہیں۔واحد وجہ ان کی صبر بیان فرمائی ہوئی ہے لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ صبر اللہ کی خاطر صبر تمام خوبیوں کا حامل ہوا کرتا ہے۔بڑے بڑے امتحانات میں سے انسان گزرتا ہے، اگر الہ صبر کرتا ہے بہت بڑی نیکی ہے اس سے بڑی نیکی ممکن نہیں ہے اس لئے حقیقت میں اس نیکی کا حق ادا کرنے والوں کو سب سے بلند مرتبہ عطا فر مایا گیا یعنی نبوت کا مرتبہ اور صبر کا ایک دوسرا معنی بھی اس میں پیش نظر رکھنا چاہئے کہ جو نیکی اختیار کی اس کو چھوڑا نہیں۔بہت مخالفانہ کوششوں کے باوجود، دکھوں کے باوجود، نیکیوں پر قائم رہے۔جو خدا نے ہدایت دے دی اس ہدایت سے ملے نہیں یہ سب صبر کے اندر داخل ہیں۔پس دیکھ لیجئے کہ اللہ تعالیٰ صبر کے مضمون کو اس شان سے بیان فرما رہا ہے کہ نبوت بھی صبر ہی کا پھل ہے۔پس جماعت احمدیہ کے لئے اس میں بہت بڑی نصیحت ہے۔آج کل جماعت احمد یہ جس دور میں سے گزر رہی ہے اس میں اس تکرار کی ضرورت ہے، بار بار دشمن کو یہ بتانے کی ضرورت ہے وَلَنَصْبِرَنَّ عَلَى مَا اذَيْتُمُونَا ہم ضرور صبر کریں گے اس پر جو ہمیں دکھ پہنچاؤ گے۔تم سے خیر کی تو توقع ہی کوئی نہیں ، دکھ تو تم نے پہنچانے ہی ہیں، پہلے بھی پہنچایا کرتے تھے اور جب ہم نے صبر کیا تو اللہ نے ہماری مشکل راہوں کو آسان کر دیا۔پس آئندہ کے لئے خدا کی صبر ہی کی عطا ہے جو مزید انعامات کا موجب بن جائے گی، مزید انعامات کا ذریعہ بن جائے گی۔صبر ہی کے ذریعے ہم نے پہلے اللہ کی عنایات کے پھل کھائے اگر چہ صبر خود بھی تو اللہ کی عنایت تھا۔مگر آئندہ بھی ہم تمہیں یقین دلاتے ہیں اے دشمن! کہ تم دکھ پر دکھ پہنچاتے چلے جاؤ ہم صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑیں گے۔جب یہ دامن چھٹا تو ہر دوسرا دامن چھٹ گیا کیونکہ جب صبر کا دامن چھٹ جائے تو پھر انسان کے قدم اکھڑ جاتے ہیں پھر وہ کہیں سے کہیں بدکتا ہوا دور سے دور تر ہوتا چلا جاتا ہے پس صبر پر قائم رہنا اور اس یقین کے ساتھ قائم رہنا کہ دشمن نے ایذاء رسانی ضرور کرنی ہے اور آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس کو یہ بتانا کہ جو بس چلتا ہے کرتے چلے جاؤ ہم نے بھی صبر کو ایسی مضبوطی سے تھام رکھا ہے کہ کوئی