خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 706
خطبات طاہر جلد 14 آگے اور آدم پیدا کرنے ہیں۔706 خطبہ جمعہ 22 ستمبر 1995ء پس اس پہلو سے دو طرح کے کام ہیں جن کو لازماً ہمیں ہر طرف ہر جگہ شروع کرنا ہوگا۔اول وہ احمد بیجو بھی کمزور ہیں اور بڑی بھاری تعداد ہے ان کی۔جو کمزور ہیں ، جن کو کام کی عادت نہیں ان کے سپر د ذمہ داریاں ہی کوئی نہیں کی گئیں۔اب وقت آ گیا ہے کہ ایک ایک احمدی کو کاموں میں لپیٹ لیں۔ایک عام لام بندی ہو جائے جس میں کوئی بھی باقی نہ رہے۔دیکھو جب امن کا دور ہو تو اس وقت ہر ایک کے لئے فوج میں شامل ہونا ضروری نہیں ہوا کرتا ایک معمولی تعداد ہے جسے شامل کر لیا جاتا ہے۔مگر جب قوم کی بقاء کا سوال پیدا ہو جب زندگی اور موت کا مسئلہ ہو اس وقت پھر حکومتوں کی طرف سے عام لام بندی کے اعلان ہو جاتے ہیں کہ جو بھی میسر ہے سب کو لپیٹ لو، بڑے بوڑھے چھوٹے سب حاضر ہو جائیں۔دیکھو جنگ بدر میں بھی تو ایسا ہی وقت تھا سب کو حاضر کر دیا گیا۔نہ کوئی بوڑھا چھٹا نہ کوئی جوان نہ بچہ، نہ لولہ نہ لنگڑا ، کمزور آنکھوں والے، کمزور جسم والے، ہر قسم کے لوگ اکٹھے ہو گئے۔اور وہ مٹی تھی جس مٹی سے خدا نے ایک آدم پیدا کیا اسی مٹی پر جب خدا نے اپنی روح پھونکی تو اس نے بڑے بڑے سورماؤں کے چھکے چھڑا دئیے۔تو جب مٹی خدا سے اذن پالیتی ہے جب اس میں اللہ کی روح پھونکی جاتی ہے تو پھر آگ کی کوئی پیش نہیں جاتی کہ اس مٹی کو ہلاک کر سکے۔پس جماعت احمد یہ وہ مٹی ہے جس مٹی سے آئندہ بنی نوع انسان کی تعمیر ہونی ہے، جس مٹی نے از سر نو آدم بنانے ہیں۔پس اس پہلو سے اپنی ذمہ داری کو سمجھیں اور اپنے کمزوروں پر بوجھ ڈالیں ، اپنے کمزوروں کے سپر د ذمہ داریاں کریں لیکن جب میں یہ ہدایت کرتا ہوں تو یہ یا درکھیں کہ اس کے ساتھ ہم نے بعض اور شرائط مقرر کر رکھی ہیں ان کو پورا کئے بغیر ہم کمزوروں پر بوجھ ڈال نہیں سکتے۔کیونکہ وہ لوگ جن پر بوجھ ڈالا جائے اور نہ اٹھائیں اور اسے رد کر چکے ہوں ان پر مزید بوجھ ڈالنا جائز نہیں ، ان کی طاقت سے بڑھ کر ہے پس اسی لئے میں نے شرط لگا رکھی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے قرآنی تعلیم کی رو سے جو مالی قربانی کا ارشاد فرمایا ہے اگر کوئی اس میں حصہ نہیں لیتا اور استطاعت کے باوجود نہیں لیتا اور استطاعت زیادہ ہے اور تخفیف سے اس کام کو دیکھتا ہے یا اس کے دل کی خساست اس پر غالب آ جاتی ہے اور جانتا ہے کہ جو خدا نے دیا ہے خدا کے علم میں ہے کہ میں نے کتنا دیا ہے اس کے باوجود جماعت کے سامنے معمولی