خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 707 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 707

خطبات طاہر جلد 14 707 خطبہ جمعہ 22 ستمبر 1995ء معمولی رقمیں لکھوا کر سمجھتا ہے کہ میں نے جان بچالی ہے ایسا شخص وہ ہے جس کو اس ذیل میں شمار نہیں کیا جا سکتا کہ ان کی ابھی طاقت نہیں ہے ان پر پہلے تھوڑا تھوڑا بوجھ ڈالو۔تھوڑا بوجھ ڈالنے کا دوسرا مضمون ہے جو ان کے حق میں جاری ہوتا ہے۔ایسے لوگوں کے متعلق میں نے کہہ رکھا ہے کہ جن کو مالی استطاعت نہ ہو، قرضوں میں مبتلا ہیں ، دوسری ضروریات ہیں ہر انسان کے اپنے اپنے حالات ہیں آپ کو بعض دفعہ وہ امیر دکھائی دیتا ہے مگر اس کی ایسی ذمہ داریاں ہیں مثلاً پاکستان میں اس کے رشتے دار ہیں، غریب بیوہ، بہنیں ہیں وغیرہ وغیرہ اس کو چاہئے تفصیل نہ لکھے لیکن مجھے صرف اتنا لکھ دے کہ میں اس وقت استطاعت نہیں رکھتا کہ پوری طرح چندہ ادا کر سکوں اور کسی تحقیق کی ضرورت نہیں، کسی عہدے دار کی سفارش کی ضرورت نہیں ، جو مجھے لکھے گا میں سو فیصدی بات مان لوں گا لیکن پھر میری اجازت کے ساتھ وہ اتنا ادا کرے گا جتنا اس کو جماعت نے اس کا وعدہ قبول کرتے ہوئے اس پر ذمہ داری ڈالی ہے وہ پھر ا سے ضرور ادا کرنا ہوگا۔پس ایسے لوگ بھی ہیں جن پر طاقت کے مطابق مالی بوجھ ڈالے جاتے ہیں اس لئے یہ مضمون کلیہ بے تعلق نہیں ہے لیکن جو سب کچھ ہوتے ہوئے پھر حاضر نہیں ہوتے ،خدا کا دیا ہوا خدا کی رضا کی خاطر اس کے حضور واپس نہیں کرتے ، ان کا پھر یہ حق نہیں کہ ان پر دوسرے بوجھ ڈالے جائیں۔وہ تو اپنی دنیا پر راضی ہیں، دنیا میں رہیں ایسے لوگوں سے کوئی جماعتی خدمات نہیں لینی لیکن جنہوں نے جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے اپنی جائز ضروریات کے پیش نظر اس جھگڑے میں پڑے بغیر کہ وہ سچ بول رہے ہیں یا نہیں بول رہے جو بھی مجھے کہا میں نے مان لیا، جو اس شرط کو پورا کر دیتے ہیں ان کا معاملہ خدا کے سپرد ہے، ان کے سپرد ذمہ داریاں کی جاسکتی ہیں مگر عہدے نہیں۔ان دو چیزوں میں بڑا فرق ہے۔اس لئے میں بات کھول رہا ہوں کہ اب یہ عام سلسلہ چلے گا، کثرت کے ساتھ جماعت میں لوگوں پر ذمہ داری ڈالی جائے گی جن پر پہلے نہیں تھی یہ بات خوب کھل جانی چاہئے کہ میری کیا مراد ہے۔ایسے لوگوں پر کام کی ذمہ داریاں ڈالیں مگر عہدے اس لئے نہیں کہ جو عہدے دار ہے اس کو ایک نمونہ ہونا چاہئے اس پر حرف نہیں ہونا چاہئے۔جو اس کے ذاتی معاملات ہیں وہ خدا کی نظر میں ہیں ہمیں اس سے غرض نہیں ہے۔جب تک خدا کسی پرستاری کے پر دے رکھتا ہے کسی کو حق نہیں ہے کہ وہ جھانک کر اس کے گھر میں دیکھے اگر ایسا کرے گا تو خدا کسی پرستاری کے پر دے رکھتا