خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 705
خطبات طاہر جلد 14 705 خطبہ جمعہ 22 /ستمبر 1995ء گے اور جب ڈالے گئے تو اللہ نے ان کو طاقت عطا فرمائی اور اس دعا کے ساتھ جب وہ کام کرتے ہیں تو پھر بہت تیزی کے ساتھ ترقی کرتے ہیں۔تو اگر جماعت کا ایک حصہ فعال نہیں ہے تو ہمارا قصور ہے۔ان کا قصور ہے جن کو خدا نے فعال ہونے کی طاقت بخشی ہے، جن کو یہ دعا سکھائی ہے، جو ان باتوں کو جانتے ہیں۔ان کو چاہئے کہ اپنے بھائیوں پر بوجھ ڈالیں اور بوجھ ڈال ڈال کر ہی ان کو آگے بڑھائیں لیکن یہ یاد رکھیں کہ بوجھ ڈالتے وقت آپ بھی تو خدا سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ اے ہمارے رب! ہم پر طاقت سے بڑھ کر بوجھ نہ ڈالنا۔تھوڑا تھوڑا ڈالیں اتنا کہ وہ خوشی سے اٹھا سکیں اور جب اس کو اٹھا ئیں گے تو پھر اور کی طلب پیدا ہوگی پھر اور کی طلب پیدا ہوگی۔وہ لوگ جو ورزش کر کے جسم کماتے ہیں پہلے دن ہی ان کو جسم کمانے کا ویسا شوق نہیں ہوتا بلکہ شروع شروع میں تو پچھتاتے ہیں کہ ہم کس مصیبت میں پڑ گئے جسم میں کھلیاں پڑی ہوئیں اٹھنا بیٹھنا مشکل ہو رہا ہے۔ایک اعلیٰ مقصد کے لئے اپنی طاقتیں بناتے ہیں اس وجہ سے ان کو یہ خطرہ کوئی نہیں کہ محض کام کی خاطر کام کر رہے ہوں۔اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ جب وہ کام کرتے ہیں اس کی جزا بھی ان کو ملتی ہے اور کئی طریقے سے جزا ملتی ہے۔اس لئے جب آپ کسی کے سپرد کرتے ہیں تو یہ نہ دیکھا کریں کہ وہ تو ادنی ہے، معمولی ہے، اس کے سپرد یہ کام کیوں کر دیں۔در حقیقت جب آپ ادنی سمجھ کر کسی کے سپر د کام نہیں کرتے تو آپ کے اندر ایک تکبر کا مادہ ہے اور تکبر کے نتیجے میں ضرور نقصان پہنچتا ہے۔خدا تعالیٰ نے پہلی کہانی میں ہی ہمیں یہ سبق سکھایا کہ اللہ نے تو مٹی کے سپر د کام کر دیا اور شیطان نے تکبر سے کام لیا کہ یہ اس ذلیل چیز کے سپر د تو نے کام کر دیا یہ کام کیسے کر سکے گا، یہ تو مٹی سے پیدا ہوا ہے، مٹی میں کہاں استطاعت ہے، ہاں آگ میں یہ طاقت ہے اس میں روشنی بھی ہے اس میں جان بھی ہے وہ بڑے بڑے کام کر کے دکھاتی ہے۔تو اللہ تعالیٰ نے اسے دھتکار دیا کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ کام سپرد کرنے میں مٹی ہونا بھی ایک بہت ہی اہم صفت ہے۔وہ لوگ جو نفس کے لحاظ سے مٹی ہو چکے ہوں انہی کو استطاعت ملتی ہے کہ ان سے آدم پیدا کئے جائیں۔پس آپ آدم بنانے والے آدم ہیں کیونکہ خدا کی نمائندگی میں جب خدا نے آپ کو اپنا خلیفہ بنادیا تو پھر آپ نے