خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 698
خطبات طاہر جلد 14 698 خطبہ جمعہ 15 ستمبر 1995ء ہیں۔پس جس خدا نے ذرائع مہیا فرمائے ہیں مجھے کامل یقین ہے کہ ہماری استعداد میں دیکھ کر ذرائع مہیا فرمائے ہیں یا یوں کہنا چاہئے کہ ہمیں استعداد دیں عطا کرنے کے بعد یہ ذرائع مہیا فرمائے ہیں۔پس جس خدا نے استعداد میں عطا کی ہیں وہی ان کی تسخیر کی بھی طاقت بخشے گا مگر لازم ہے کہ دعا کریں اور دعائیں کر کے ان کاموں کو جاری کریں۔ایسے ڈیسک قائم ہونے چاہئیں جو مسلسل نگاہ رکھیں کہ اس وقت مثلاً بوسنین میں ہم نے کیا کر لیا ہے، کیا آئندہ کرنا ہے۔کس قسم کے تو ہمات پیدا کئے جارہے ہیں، کس قسم کے شبہات دلوں میں بھرے جارہے ہیں، ان کے کیا کیا جواب ہونے چاہئیں یہ ساری باتیں بوسنین زبان میں مؤثر طریق پر ان کو پیش کرنے کے لئے جتنا بھی آج تک مواد اکٹھا ہے اس پر وہ ڈیسک نظر رکھے اور پھر Monitor کرے اس بات کو کہ جن خدام، انصار، لجنات کے سپرد یہ کام ہے یعنی خواتین اور بچوں کے سپرد، ان کی پروڈکشن کیا ہے، کس رفتار سے وہ ان کو ٹیلی ویژن پر دکھانے کے لائق پروگراموں میں تبدیل کر رہے ہیں۔اور پھر ہمیں مطلع کیا جائے کہ ہر روز کے لحاظ سے اتنے گھنٹے کا پروگرام بنا رہے ہیں۔اور جب کچھ پروگرام تیار ہو جائیں گے اور رفتار کا یقین ہو جائے گا کہ مستحکم ہو چکی ہے تو پھر ہم انشاء اللہ تعالیٰ بڑی خود اعتمادی کے ساتھ اعلان کریں گے کہ آؤ بوسنیز ! اب تمہارے لئے ہم نے ہر روز کا فلاں ایک گھنٹہ یا دو گھنٹے مقرر کر دیئے ہیں، فلاں وقت تم بیٹھا کرو اور دیکھا کرو اور ایک دفعہ شروع ہو جائے تو پھر اس کی عادت پڑ جاتی ہے افیم کی بھی تو عادت پڑتی ہے مگر اچھے پروگرام دیکھنے کی اس سے زیادہ عادت ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایم ٹی اے کے پروگرام دنیا کے ذلیل لذتوں والے پروگراموں کو توڑ کر اپنی جگہ خود بنارہے ہیں اور مطالبہ بڑھ رہا ہے اس کا مزہ ہی اور ہے، اس کی کیفیت ہی اور ہے۔پس اس بات سے نہ ڈریں کہ کون دیکھے گا۔آپ پروگرام بنا ئیں اور مہیا کریں اور ہم عین معین پروگراموں کے مطابق ان کو مختلف قوموں اور زبانیں بولنے والوں کی خدمت میں پیش کریں گے تو پھر دیکھیں کہ کس تیزی سے خدا کے فضل سے احمدیت پھیلتی ہے۔پھر آپ کا یہ فکر کم ہو جائے گا کہ جو آرہے تھے ہم نے ان کو سنبھالا بھی ہے کہ نہیں۔ہمارا کام صرف یہ رہ جائے گا کہ ہر وہ جگہ جہاں خدا کے فضل سے نو مبائعین پیدا ہوتے ہیں وہاں کثرت کے ساتھ ڈش انٹینے مہیا کئے جائیں اور اس کے لئے پھر الگ ایک منصو بہ ہوگا۔ایسی ایک ٹیم بنانی ہوگی جو نظر رکھے، یہ دیکھے کہ پروگرام سے استفادہ کرنے والوں