خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 63 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 63

خطبات طاہر جلد 14 80 63 خطبہ جمعہ 27 جنوری 1995ء سے ذلیل انسان کے بھی اللہ قریب ہے جبکہ بندے دور ہٹ جاتے ہیں۔اس مضمون کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰہ والسلام یوں بیان فرماتے ہیں : کرم خاکی ہوں مرے پیارے نہ آدم زاد ہوں ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار (درمین: 125) اس کے بعد پھر مغفرت کا کیا سوال ہے۔مغفرت کا سوال اس ذات سے ہے جو ہر گناہ گار کے خواہ وہ کیسا ہی ذلیل ہو چکا ہو اس کے بھی قریب رہتا ہے اگر اس میں احساس ندامت پیدا ہو اور وہ بخشش کی طلب کرنے کی طرف مائل ہو۔تو یہ وہ کیفیت تھی اس شخص کی جس کو آنحضرت ﷺ نے اس طرح بیان فرمایا کہ گنا ہوں کے انتہا تک پہنچنے کے باوجود دل میں تمنا تھی اور انسانوں کا حال یہ تھا کہ اپنی نیکیوں کی رعونت میں، اپنی نیکیوں کے تکبر میں ، اس کو حقارت سے دیکھتے تھے اور رد کرتے چلے جاتے تھے اور خدا کی نمائندگی میں گویا رد کر تے تھے۔کہتے تھے اللہ کی ذات بہت بڑی ہے، تمہارے جیسے ذلیل آدمی پر نظر بھی نہیں ڈال سکتا۔ان پر اِنّي قَرِیب کا مضمون روشن نہیں تھا۔مگر ایک خدا کا بندہ ایسا تھا جو حقیقت میں عارف باللہ تھا۔جب وہ گناہ گار اس کے پاس پہنچا تو اس نے کہا کہ ایک ہی طریق ہے کہ تم بدی کے شہر سے نیکی کے شہر کی طرف ہجرت کر جاؤ۔اب بدی کا شہر کون سا ہے؟ ہر انسان کی ذات میں ایک بدی کا شہر آباد ہے۔کسی کی ذات میں بہت بڑا شہر آباد ہے۔بے انتہا اس میں گناہ بستے ہیں اور خوب کھل کھیلتے ہیں، کسی کی ذات میں کچھ کم آباد ہیں مگر وہ معصوم جن کو خدا نے عصمت عطا فرمائی ہوان کے سواہر ایک کے اندر کوئی نہ کوئی شہر بستا ہے اور ایک اور شہر بھی ہے جو نیکی کا شہر ہے اس طرف ہجرت کوئی بیرونی ہجرت نہیں بلکہ اندرونی ہجرت ہے ایک انسان اپنے گناہوں سے نیکیوں کی طرف جب حرکت شروع کر دیتا ہے تو اسی کا نام بدیوں کے شہر سے نیکیوں کے شہر کی طرف یا بدوں کے شہر سے نیکیوں کے شہر کی طرف ہجرت کرنا ہے۔پس اس عارف باللہ نے اسے سمجھایا کہ ایک ہی رستہ ہے کہ تم بدی کے شہر سے نیکی کے شہر کی طرف ہجرت شروع کر دو لیکن یہ ہجرت آسان نہیں ہوتی۔قدم قدم پر مشکل پیش آتی ہے اور اچانک یہ حاصل نہیں ہو سکتی۔اس لئے آنحضور ﷺ نے اس کی مسافت کا نقشہ ایسے کھینچا کہ اس نے سفر تو شروع کر دیا لیکن بہت مشکل سفر تھا اور نیکی کا شہر اس سے بہت دور تھا