خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 64 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 64

خطبات طاہر جلد 14 99 64 خطبہ جمعہ 27 جنوری 1995ء یہاں تک کہ چلتے چلتے اس کی موت کا وقت آ گیا اور وہ نڈھال ہوکر زمین پر جا پڑا لیکن ابھی نیکی کے شہر سے بہت دور تھا۔اس پر اس نے کہا کہ چلو آخری دم تک کوشش تو کروں اور گھسٹتا ہوا جس حد تک بھی اس میں آخری توانائی موجود تھی وہ گھسٹ گھسٹ کر نیکی کے شہر کی طرف حرکت کرتا رہا لیکن بدیوں کا شہر بھی اس کے قریب موجود تھا نیکی کا شہر اس سے بہت دور تھا تب اللہ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ میرا یہ بندہ اپنے گناہوں کا احساس رکھتا تھا۔اس کے دل میں شعور بیدار ہو چکا تھا اور جتنی اس میں طاقت تھی اس نے کوشش کی۔اب ہم یوں کرتے ہیں کہ تم اس کا فاصلہ ناپو۔نیکی کے شہر سے کتنی دور ہے اور بدی کے شہر سے کتنی دور ہے اگر نیکی کے شہر کا فاصلہ کم ہوا تو اس کی بخشش کا اعلان ہے اور اگر بدی کے شہر سے فاصلہ کم ہوا تو پھر اس کی مغفرت کا سوال نہیں اور یہ حکم دے کر اللہ تعالیٰ کی رحمت نے یہ انتظام کیا کہ فرشتے جو بدی کے شہر سے فاصلہ ناپتے تھے وہ فاصلہ بڑھتا چلا جاتا تھا اور وہ گز چھوٹے ہو گئے تھے جس انداز سے بھی وہ ناپتے تھے وہ فاصلہ ختم ہونے میں نہیں آتا تھا اور جب نیکی کے دور شہر کے فاصلے کو انہوں نے ناپنا شروع کیا تو وہ گز لمبے ہو گئے اور بہت جلد جلد فاصلہ طے ہونے لگا۔یہاں تک کہ فرشتوں نے یہی دیکھا اور یہی پایا اور یہی عرض کیا کہ اے اللہ دیکھنے میں تو یہ نظر آتا تھا کہ بدیوں کے شہر کے قریب تر ہے لیکن جب ہم نے نا پا تو یہ عجیب بات ہوئی ہے کہ یہ نیکیوں کے شہر کے قریب ملا ہے۔تو اس میں آنحضرت ﷺ نے مغفرت ، گناہ، بخشش اور بظاہر گئے گزرے ہوئے انسانوں کے احوال، ان کی بخشش کا گہرا فلسفہ، یہ سب کچھ بیان فرما دیا ہے اور حیرت انگیز تمثیل ہے اس سے زیادہ خوبصورت اور حسین اور حقیقت پر مبنی جو اپنی تمام تر تفاصیل کے لحاظ سے بچی ہو اور تمثیل آپ کو کبھی دکھائی نہیں دے گی۔حضرت عیسی کی تماثیل بھی مشہور ہیں۔بہت میں نے غور کر کے دیکھی ہیں اور بھی بہت سی تمثیلیں پڑھی ہیں مگر جتنا گہرا اثر میرے دل پر اس تمثیل کا ہے کبھی کسی اور تمثیل کا نہیں پڑا کیونکہ کوئی مبالغہ نہیں۔لفظ بہ لفظ ، حرف بہ حرف سچی بات اور ذرا سا اپنے ذہن کو اس میں ڈوبنے دیں تو ہر بات کھلی کھلی مدل دکھائی دینے لگتی ہے کہ ہونا اسی طرح چاہیئے تھا۔چنانچہ یہ وہ مضمون ہے اِنِّي قَرِيبُ کا کہ اس نے خدا کی آواز پہ لبیک کہنے کی کوشش شروع کر دی تھی۔اگر چہ یہ کوشش بعض دفعہ مکمل نہیں ہوتی اور اس کوشش کو وہ پھل نہیں لگتا جو دنیا کی نظر سے پھل دکھائی دے۔وہ مرنے والا بظاہر