خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 62
خطبات طاہر جلد 14 62 خطبہ جمعہ 27 جنوری 1995ء سے اور گریہ وزاری سے داغ تو مٹ جاتے ہیں لیکن مرض قائم رہ جاتا ہے۔ایسے لوگوں کی حالت بہت قابل رحم ہوتی ہے اور ان کے معاملہ کا فیصلہ نہیں ہوتا جب تک موت کا وقت نہ آ جائے۔اس وقت اللہ کی تقدیر یہ بتاتی ہے کہ تمہیں میں نے کس حالت میں وفات دی ہے۔صلى الله آنحضرت ﷺ اس مضمون کو بہت ہی لطیف پیرائے میں، بہت گہرائی کے ساتھ، ایک تمثیل کے طور پر بیان فرماتے ہیں۔آنحضرت ﷺ ایک ایسے شخص کی مثال دیتے ہیں جو گناہوں کے بوجھ تلے دیا ہواتھا بلکہ اتنا گناہ گار تھا کہ جب اس کو شعور پیدا ہوا کہ میں اتنا گناہ گار ہوں تو وہ تمام ایسے لوگوں کی طرف دوڑا جو نیک مشہور تھے، جو عارف باللہ مشہور تھے اور ان کے سامنے جا کر اس نے اپنا حال کہا اور ایک کے بعد دوسرے سے پوچھا کہ میری بدیوں کا تو یہ حال ہے، میرے گناہوں کی یہ وسعت ہے، اس طرح میں گھیرے میں آچکا ہوں اور کوئی ایسا گناہ نہیں ہے جو تم تصور کر سکتے ہو جو میں نے نہ کیا ہو۔اب بتاؤ میرے لئے بخشش کا کوئی سامان ہے تو ہر سننے والے نے یہ جواب دیا کہ نہیں تمہاری بخشش ممکن نہیں اور وہ ایک کے بعد دوسرے کے پاس گیا اور ایک کے بعد دوسرے کی طرف سے مایوس ہوتا رہا۔اس مضمون کو آگے بڑھانے سے پہلے اس پہلو کو بھی میں سمجھانا چاہتا ہوں کہ یہاں اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور انسان کی مغفرت کا ایک فرق بھی دکھایا گیا ہے۔انسان کو نہ مغفرت کی اتنی استطاعت ہے، نہ وہ گہرائی سے دلوں کے راز معلوم کر سکتا ہے کہ کسی گناہ گار کے متعلق یہ بھی فیصلہ دے سکے کہ اس کی بخشش کا کوئی امکان ہے کہ نہیں۔وہ اپنی سطحی نظر سے گنہگاروں کو دیکھتا ہے اور غصے اور نفرت کی نظر سے ان کو دیکھتا ہے اور غصے اور نفرت اور تکبر کی نظر سے اگر کسی گنہگار کی حالت کو دیکھا جائے تو بخشش کا کوئی بھی امکان نظر کے سامنے ابھرتا نہیں۔انسان یہ سوچ بھی نہیں سکتا کہ ایسے انسان کی بخشش ہوسکتی ہے۔تو بخشش کے لئے ایک قسم کی انکساری کی ضرورت ہے اور یہ انکساری ایک عجیب رنگ میں اللہ تعالیٰ کی ذات میں بھی پائی جاتی ہے۔جب کہتے ہیں وہ تو اب ہے تو مراد ہے وہ جھکتا ہے۔یہ مطلب نہیں کہ خود تو بہ کرتا ہے وہ اپنی بلندیوں سے ان گہرائیوں تک اتر آتا ہے جہاں گناہ گار پل رہے ہیں اور ان کے قریب ہو کر ان کی آواز سنتا ہے۔یہ بھی وہ مضمون ہے جو اس آیت میں بیان کیا گیا ہے کہ جب میرے بندے تجھ سے میرے متعلق پوچھتے ہیں۔اني قریب میں تو قریب ہوں۔ہر بد سے بد، ہر گناہ گار سے گناہ گار، ہر ذلیل