خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 635
خطبات طاہر جلد 14 635 خطبہ جمعہ 25 /اگست 1995ء کے ساتھ ملاتے نہیں الگ رکھا جاتا ہے، بعد میں کیا جاتا ہے لیکن بعض دفعہ لوگوں کی وفات کے وقت طبعا دل میں ایک جوش اٹھتا ہے کہ ان کے لئے جمعہ کے ساتھ نما ز جنازہ ادا کی جائے اور ایسی صورت میں میں پھر یہی فیصلہ کرتا ہوں۔جماعت کو میں نصیحت کرتا ہوں کہ میرے ان فیصلوں کے نتیجے میں مجھ پر یہ دباؤ نہ ڈالیں کہ جس کا دل چاہے اس کے عزیز کی نماز جمعہ کے ساتھ نماز جنازہ ہو۔وہ زور دے کہ فلاں جمعہ کے بعد اس کا جنازہ بھی پڑھ دیں۔یہ پھر رسم و رواج بن جائیں گے اس میں نفس کی انا کا دخل ہو جائے گا۔اللہ کی محبت کا دخل نہیں رہے گا ان باتوں کو مجھ پر چھوڑ دیں۔یہ درخواست کر سکتے ہیں کہ ہمارے فلاں عزیز کی نماز جنازہ غائب آپ پڑھا دیں یا حاضر ہو تو حاضر پڑھا دیں مگر وقت کی شرط نہ لگایا کریں۔آج جو دو جنازے خصوصیت سے میرے پیش نظر ہیں ان کے علاوہ بھی بہت سے جنازے ہیں جن کا اعلان ہو چکا ہے۔لیکن ایک ہمارے ابراہیم نون یہ گلاسکو میں پانچ سال پہلے مسلمان ہوئے تھے مگر احمدی نہیں تھے۔احمدیت کی وساطت سے نہ ان کو پیغام ملا ، نہ ان کو خیال آیا احمدی ہونے کا۔ان کے دل میں اسلام کے نتیجے میں بوسنیا کے لئے قربانی کا جذبہ ابھرا اور محض اس اسلامی تعلق کی وجہ سے یہ بوسنیا کی خدمت کے لئے وقف ہو گئے اور مختلف جو قافلے جایا کرتے تھے مدد کے ان میں ان کے ساتھ جایا کرتے تھے۔ایک سال پہلے ان کا تعارف اتفاقاً جماعت سے اس طرح ہوا کہ جماعت کے ایک Convoy میں یہ بھی شامل ہو کر ایک اور ادارے کے چونکہ مستقل ممبر بنے ہوئے تھے یہ بھی شامل ہو کر ساتھ چلے گئے وہاں انہوں نے جس طرح احمدیوں کو خدمت کرتے دیکھا قریب سے ان کی عبادتیں دیکھیں، ان کا تعلق باللہ دیکھا، ہر موقع پر وہ دعا کر کے کام کرتے تھے۔اس سے اتنا متاثر ہوئے کہ بعد میں انہوں نے اپنے آپ کو احمدیوں کے قافلوں کے ساتھ جانے کے لئے وقف کر دیا اور مجھے آ کر ملے اور مجھے کہا کہ میں نے قطعی طور پر احمدی ہونے کا فیصلہ کر لیا ہے، آج سے میں احمدی ہوں۔میں نے ان کو سمجھایا کہ آپ غور کر لیں آپ کو اختلافی مسائل بھی دیکھنے ہوں گے۔انہوں نے کہا مجھے کچھ تو بتا دیئے ہیں بعض احمد یوں نے مگر یہاں اختلافی مسائل کی بحث نہیں ہے مجھے جس اسلام سے اطمینان نصیب ہو رہا ہے وہ یہ اسلام ہے جس پر آپ عمل کر رہے ہیں اور مجھے طمانیت ہی نہیں مل سکتی دوسری جگہ۔اس لئے آپ مجھے اپنے میں قبول کریں۔