خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 636 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 636

خطبات طاہر جلد 14 636 خطبہ جمعہ 25 /اگست 1995ء اب مجھے یاد نہیں کہ با قاعدہ اس وقت ان سے بیعت فارم بھروایا گیا تھا کہ نہیں مگر یہ بات سن کر میں نے ان سے کہا کہ آپ آج کے بعد خدا کی نظر میں بھی احمدی اور میں بھی آپ کو احمدی ہی سمجھوں گا۔انہوں نے کہا دعا کریں میں پھر خدمت پر جا رہا ہوں۔چنانچہ مسلسل بوسنیا جانے والے قافلوں کی خدمت کرتے رہے۔ابھی اطلاع ملی ہے یعنی چند دن پہلے کہ وہاں Srivo سرائیوو کے نزدیک ایک بارودی سرنگ کے پھٹ جانے کی وجہ سے ان کی شہادت ہوئی ہے۔چونکہ بوسنیا کے جہاد میں اللہ شرکت کی ہے، نو مسلم ہونے کے باوجود، اتنا جذبہ جہاد تھا، اتنی قربانی تھی اس لئے ان کے لئے تو خصوصیت سے میرے دل میں یہی تحریک اٹھی کہ نماز جمعہ کے ساتھ ان کی نماز جنازہ پڑھائی جائے۔دوسرے ہمارے عزیز مبشر احمد صاحب ہیں۔جماعت جرمنی کے سرگرم کارکن اور فدائی احمدیت کے اور ایسا عشق تھا احمدیت سے اور خلافت سے کہ ان کی زندگی اس کام میں وقف رہتی تھی کہ کسی طرح مجھے خوشی کی خبر پہنچا ئیں اور کوئی بھی تکلیف کی خبر کہیں پہنچتی تھی تو وہاں پہنچتے تھے، مجھے دعا کا تار دے کر جاتے تھے ، خدمت کے لئے وقف ہوتے تھے اور بار بار مجھے چھوٹی سی بھی امید کی خبر آئے تو فیکس کر دیا کرتے تھے کہ الحمد للہ اب اللہ کے فضل سے یہ Improvement ہوگئی ہے۔یہ ہوگئی ہے، یہ ہوگئی ہے۔ان کے اس اخلاص کی وجہ سے میں نے ان پر بوجھ بھی بہت ڈالے لیکن ہر بوجھ خوشی سے قبول کیا اور میری توقع سے بھی بڑھ کر ادا کیا۔اس لئے میں نے ایک خطبے میں بھی ان کا ذکر کیا اور اس کے بعد جماعت جرمنی نے ان پر وسیع ذمہ داری ڈال دی اور مسلسل بڑی محنت کے ساتھ اس ذمہ داری کو ادا کرتے رہے بلکہ میں تعجب کرتا تھا کہ اتنی جلدی کس طرح انہوں نے وہ سارا کام کر لیا جو ساری جماعت جرمنی کے کارکنوں کو تو فیق نہ ملی جن کو میں بارہا کہہ چکا تھا، کہتا رہا تھا کہ آپ یہ کام اس طرح کریں۔نہ ان کو سمجھ آتی تھی نہ اس کی توفیق ملتی تھی۔مگر جماعت جرمنی پر کوئی حرف نہیں ہے کیونکہ ان سے جن لوگوں نے تعاون کیا ہے وہ بھی تو جرمنی جماعت کے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں ہیں۔بکثرت گروپس بنائے انہوں نے اور بڑی اعلیٰ روح کے ساتھ سب نے لبیک کہا اور وہ کام جو کئی سال سے رکا ہوا تھا یا دو سال سے کہنا چاہئے رکا ہوا تھا اللہ کے فضل سے بڑی تیزی سے آگے بڑھا۔یہ یہاں بھی اسی خدمت کے لئے آئے ہوئے تھے وہاں سے۔کچھ ٹیپیں تیار کروا کے ہماری ایم ٹی اے کے لئے اپنی وین میں اپنے بیٹے کو ساتھ لے کر یہاں پہنچے تھے۔عشاء کے