خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 634
خطبات طاہر جلد 14 634 خطبہ جمعہ 25 /اگست 1995ء کو چھوڑ کر ایک اور سمت چل پڑا۔اب اس شخص کے دل میں تعجب پیدا ہوا کہ میں دیکھوں تو سہی یہ کیا بات ہے۔وہ اس بادل کی پیروی میں جہاں جہاں وہ بادل جارہا تھا اس طرف چل پڑا۔یہاں تک کہ اس نے دیکھا کہ وہ بادل ایک نالے پر جا کر برسا ہے اور خوب برسا ہے۔وہ اس نالے کے ساتھ ساتھ چل پڑا، دیکھا تو اسی نالے سے ایک شخص نے پانی نکال کر اپنے کھیتوں کی طرف رخ موڑا ہوا تھا۔اس کو بادل سے جو آواز آئی اس میں اس کا نام بھی بتایا گیا تھا۔اللہ کی طرف سے بادل کو حکم ملتا ہے کہ اے بادل ! میرے فلاں بندے کے کھیتوں میں جا کے برس۔اس نے دیکھا تو اس نے اس سے پوچھا کہ بھائی تمہارا کیا نام ہے۔اس نے وہی نام بتایا جو بادل کی آواز کے ساتھ اس نے سنا تھا۔اس پر اس نے کہا کہ مجھ سے یہ عجیب واقعہ ہوا ہے۔تو کرتا کیا ہے؟ مجھے بتا تو سہی کہ تیرے وہ کون سے اعمال ہیں جو اللہ کو اتنے پسند آ گئے ہیں کہ بادلوں کو حکم دیتا ہے کہ جا اور میرے بندے کی خاطر برس۔تو اس نے کہا کہ اب تم نے بات چھیڑ دی ہے بتا ہی دیا ہے قصہ تو اب سن لو کہ میرا دستور یہ ہے کہ جو کچھ بھی مجھے آمد ہوتی ہے اس میں اس کا 1/3 حصہ پہلے خدا کے لئے نکال دیتا ہوں۔پھر 1/3 کھیتی کا حق ادا کرنے کے لئے تا کہ آئندہ فصل کے لئے جو ضروریات ہیں وہ پوری کروں الگ کر دیتا ہوں۔پھر جو 1/3 بچتا ہے وہ اپنے اہل و عیال پر ، دوستوں پر اپنی دنیا کی ضرورتیں پوری کرنے کے لئے خرچ کرتا ہوں۔بس اتنا سا میرا کام ہے اور اللہ کو یہی بات پسند آ گئی ہے۔اس سے آپ کو یہ بھی سمجھنا چاہئے کہ ہم نے جو نظام جماعت میں آپ دیکھتے ہیں کہ 1/3 تک وصیت کی اجازت ہے زیادہ کی نہیں یہ ایک مستقل آسمانی ہدایت ہے یہ کوئی اتفاقی حادثہ نہیں ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے 113 کی شرط لگائی ہے۔1/10 وصیت میں کم سے کم اور 1/3 زیادہ سے زیادہ لیکن 1/3 ہو یا 1/10 ہواگر اللہ کی محبت کی خاطر خرچ کریں گے اور با قاعدہ نیت باندھیں کہ میں اپنے اللہ کو راضی کروں گا جو کچھ اللہ کا ہے وہ آپ کا ہو جایا کرتا ہے۔خدا کی کائنات آپ کی خاطر مسخر کر دی جاتی ہے اور اسی کی یہ مثال ہے کہ جو میں نے حدیث کی صورت میں آپ کے سامنے رکھی ہے۔اب باقی باتیں انشاء اللہ بعد میں کروں گا اب وقت تھوڑا ہے میں بعض جنازوں کا اعلان کرنا چاہتا ہوں۔اکثر میرا طریق یہی ہے جیسا کہ پہلے خلفاء کا بھی تھا کہ حتی المقدور نماز جنازہ کو جمعہ