خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 53
خطبات طاہر جلد 14 53 خطبہ جمعہ 20 /جنوری 1995ء مضمون ہمیں خوب کھول کر سمجھا دیا ہے۔آپ نے فرمایا ہے کہ روزمرہ کی دعائیں جو تم کرتے ہو ان کی مقبولیت کا انحصار تمہارے روز مرہ کے اللہ سے تعلق پر ہے۔تم عام تعلقات اللہ سے رکھتے ہو تو دعاؤں کا جو مضمون ہے وہ بھی عام طریق پر تمہارے حق میں جاری ہوگا دعاؤں کے فیض بھی تمہیں اسی حد تک ملیں گے جس حد تک تمہارا خدا تعالیٰ سے ایک روزمرہ کا تعلق ہے۔پس یہ روزمرہ کے تعلق والی دعائیں تو اکثر احمدیوں کو نصیب ہیں مگر یہ اس وقت اثر دکھائیں گی جبکہ مرض ابھی حد اختیار کے اندر موجود ہے۔وہ پانی جب سر سے گزر جائے گا پھر خارق عادت دعائیں ہیں جو کام کرتی ہیں اور وہ صرف ان لوگوں کو نصیب ہوتی ہیں جن کا اللہ سے تعلق خارق عادت ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو یہ عجیب اور بار یک در بار یک مضامین بیان فرمائے ہیں کوئی دنیا کا صحیح الدماغ انسان ، جس کو ادنی بھی شعور ہولطیف باتوں کا ، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ان تحریروں کو دیکھ کر آپ کی صداقت کے بغیر کوئی اور فتویٰ جاری کر ہی نہیں سکتا۔وہ لازماً آپ کی صداقت کا قائل ہوگا کیونکہ یہ مضامین وہ ہیں جو صاحب تجر بہ کو نصیب ہوا کرتے ہیں باہر کی آنکھ سے دیکھنے والے کو کبھی عطا ہی نہیں ہوتے ، ان تک اس کی رسائی ہی نہیں ہوا کرتی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان باتوں کو اپنے روزمرہ کے معمول میں دیکھا، شناخت کیا اس کے علاوہ دوسرے نمونوں سے ان باتوں کے مواز نے کئے اور پھر اپنے عرفان کا ماحصل ہمارے سامنے کتنا آسان بنا کر اس طرح پیش فرما دیا کہ ہماری مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بغیر وہاں تک رسائی ممکن ہی نہیں تھی۔خارق عادت کا مضمون دیکھیں کیسے عجیب طریق سے سمجھایا ہے۔آپ نے فرمایا ہے، خارق عادت سے مراد یہ ہے کہ عام طبعی قانون کی حد سے کوئی چیز با ہر نکل جائے اور خدا کی قدرت کاملہ کے دائرے میں موجود رہے۔ویسے تو ہر چیز خدا کی قدرت کاملہ کے دائرے میں موجود ہے مگر اس حوالے سے اس کا مطلب یہ بنتا ہے کہ خدا کی قدرت کاملہ نے بعض قوانین کے دائرے چھوٹے رکھے ہیں، بعض وسیع رکھے ہیں ، بعض بالا ، بعض نچلے۔عام حالات میں ایک دائرے میں ایک قانون حرکت کر رہا ہے اور اس دائرے میں اس قانون میں جتنی استطاعت ہے وہ اتنا اثر دکھا سکتا ہے اس سے بڑھ کر اثر نہیں دکھا سکتا۔اگر معاملہ اس دائرے سے باہر نکل چکا ہو تو بالائی دائرے کا قانون ہے جو حرکت میں آئے تو اس کو درست کر سکتا ہے ورنہ نہیں کر سکتا۔