خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 54 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 54

خطبات طاہر جلد 14 54 خطبہ جمعہ 20 /جنوری 1995ء فرمایا کہ خدا کے بندے بعض ایسے ہوتے ہیں جو اپنے روزمرہ کے تعلقات میں اللہ تعالیٰ سے عام بندوں کی طرح معاملہ نہیں کرتے بلکہ عام بندوں کی عادت کے برعکس معاملہ کرتے ہیں۔لوگ کہتے ہیں اس کو کیا ہو گیا ہے ، یہ تو پاگل ہو گیا ہے۔اللہ کی خاطر عجیب وغریب باتیں کر رہا ہے۔وہ مفادات جن کو کوئی دیکھ کر سمجھ کر چھوڑ نہیں سکتا ان مفادات کو اس طرح چھوڑتے ہیں کہ عام طاقتوں کا انسان اس کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ظاہری طور پر اپنے مخالف فیصلے کرتے ہیں مگر خدا کی گہری محبت کے نتیجے میں مجبور ہو کر ایسا کرتے ہیں، اس کو مسیح موعود علیہ الصلوٰہ والسلام فرمار ہے ہیں خارق عادت تعلق۔عام دنیا کے نیک آدمی بھی ایک تعلق اللہ سے رکھتے ہیں، روزمرہ قربانیاں دیتے ہیں مگر وہ تعلق خارق عادت نہیں ہے۔انسانوں میں ایسے تعلق ہر جگہ ملتے ہیں۔جہاں وہ تعلق انسانوں کے دائرے سے بڑھ کر دکھائی دے وہ وہ دائرہ ہے جسے خارق عادت کہا جاتا ہے ، عادت کے برعکس، عادت کو تو ڑ کر ایک نئے دائرے میں داخل ہو گیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ جب خدا کا ایسا بندہ مشکل میں آتا ہے تو خدا کے قانون کے دائرے توڑے جاتے ہیں اور خدا ان قوانین کو وہاں جاری کرتا ہے جو پہلے سے موجود تھے مگر ایک اور وسیع تر دائرے سے تعلق رکھتے تھے۔تو عام قانون کے دائرے پھاڑ دیئے جاتے ہیں اور ایسے بندے کے لئے خدا خارق عادت نمونے دکھاتا ہے۔تو ناممکن تو نہیں ہے، ہم دنیا میں خدا کے غیر معمولی بندوں میں یہ باتیں دیکھتے ہیں مگر روزمرہ کے طور پر یہ واقعات نہیں ہوتے اور جن کے حق میں ہوتے ہیں ان کی عادتیں روز مرہ والی نہیں ہوتیں، ان سے مختلف ہوا کرتی ہیں۔تو میں تو ایک عام تربیت کے حوالے سے آپ کو سمجھا رہا ہوں دعاؤں کے اوپر وہ انحصار نہ کریں جو دعائیں آپ کی طاقت سے باہر ہیں۔روز مرہ کی تدبیریں اور روزمرہ کی دعاؤں کا آپس میں تعلق جاری وساری ہے۔اس دائرے کے اندر رہتے ہوئے اس وقت دعا ئیں کریں جب عام طور پر یہ دعائیں سنی جانی چاہئیں اور دعا ئیں عام طور پر سنی جانے کا ایک راز یہ ہے جو خارق عادت نہیں بلکہ عام عادت کا حصہ ہے کہ جب آپ خدا کے پاس اس وقت جاتے ہیں جب یہ مشکل ابھی پڑی نہیں ہوتی اس سے محبت کی باتیں کرتے ہیں، اپنا تعلق بناتے ہیں اور آئندہ آنے والی مشکلات