خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 52
خطبات طاہر جلد 14 52 52 خطبہ جمعہ 20 جنوری 1995ء سے دکھائی نہیں دیتیں ان کے متعلق یہ سمجھ لینا کہ وہ ہیں نہیں ، یہ پرانے زمانے کی باتیں ہیں۔آج کل تو واقعہ سائنس ایسی چیزیں دریافت کر چکی ہے کہ جو نہ دیکھنے والی چیزیں ہیں ان میں بہت زیادہ طاقتور چیزیں بند کی جاسکتی ہیں۔Magnatic Field کے اندر ایسے Crucibles بنائے گئے ہیں یعنی جن میں بہت زیادہ گرمی پیدا کر کے بعض دھاتوں کو پگھلایا جاتا ہے کہ جن کو عام جو برتن ہیں مادہ چیزوں کے وہ ان کو سنبھال ہی نہیں سکتے۔ان کی گرمی سے وہ پگھل جائیں اور ختم ہو جائیں لیکن وہ جو برتن ہیں وہ مقناطیسی طاقتوں کے برتن ہیں جو آنکھ سے دکھائی نہیں دیتے اور ان کے اندر وہ چیزیں مضبوطی سے قائم رہتی ہیں اور ان برتنوں کے اندر ان کو اتنا زیادہ گرم کیا جاسکتا ہے کہ مادی چیز کے متعلق آپ خواب میں بھی یہ تصور نہیں کر سکتے تو دیکھنے میں وہ چیز دکھائی نہیں دے رہی لیکن بڑے مضبوط ستون ہیں ساری کائنات کا بوجھ ان ستونوں نے اٹھایا ہوا ہے اور ایسے برتنوں میں جو جدید ترین تجارب ہیں جو عام مادی چیزوں میں ممکن نہیں وہ ایسے برتنوں میں ہورہے ہیں۔تو اس لئے دعا کے متعلق کوئی بے وقوف یہ سمجھ لے کہ ہم فرضی باتیں کر رہے ہیں دعا کی ایک دیوار بن گئی ، دعا کا ایک قلعہ تعمیر ہو گیا وہ سوچنے والا بے وقوف اور قدیم انسان ہے۔ہم نہیں۔ہم نے تو خدا کی ظاہری کائنات میں بھی ایسی حیرت انگیز چیزیں دیکھی ہیں کہ اس کی روحانی کائنات میں ان کا عدم متصور ہی نہیں ہوسکتا۔وہی خدا ہے جس نے روحانی کائنات بنائی ہے۔جب اس کی مادی کائنات میں ہم عجائبات دیکھتے ہیں تو یہ خیال کر لینا کہ اس کی روحانی کائنات عجائبات سے خالی ہے بہت بڑی بے وقوفی ہے۔تو ایسے لوگوں کو اپنی اولاد کے لئے دعائیں کرنی چاہئیں مگر اس وقت کرنی چاہئیں جب دعا کے وقت ہوتے ہیں، جب پانی سر سے گزر جائے تو ایک قسم کی موت واقع ہو جاتی ہے اس وقت اعجازی طور پر اللہ چاہے تو جو چاہے دکھا دے مگر عام قانون یہی ہے کہ جو شخص جس طرح خدا سے تعلق رکھتا ہے اس کی اسی حد تک سنی جاتی ہے اور ہر شخص کے لئے اعجاز نہیں دکھائے جاتے۔وقت کے اوپر آپ علاج شروع کر دیں تو وہ مرض جو بعد میں خطرناک ثابت ہو سکتا ہے وہ بھی قابو میں آجائے گا اور وقت کے بعد علاج شروع کریں تو شاذ کے طور پر کبھی ہزار دس ہزار، لا کھ میں سے ایک ایسا بھی ہوتا ہے جو پھر بھی قابو آجاتا ہے۔مگر یہ غیر معمولی خارق عادت بات ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ