خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 571 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 571

خطبات طاہر جلد 14 571 خطبہ جمعہ 4 اگست 1995 ء کی مشکلات اور مصائب آئیں اور یہ اسی لئے آتی ہیں کہ خدا تعالیٰ پر ایمان قوی ہو اور پاک تبدیلی کا موقعہ ملے۔دعاؤں میں لگے رہو۔پس یہ ضروری ہے کہ تم انبیاء ورسل کی پیروی کرو اور صبر کے طریق کو اختیار کرو۔پس انبیاء پر بھی جو مشکلات آئیں ہیں وہ نعوذ باللہ من ذالک کسی سزا کے طور پر تو نہیں آئیں یا مٹانے کی غرض سے تو نہیں آئیں وہ تو انہیں پہلے سے مضبوط تر کرنے کے لئے آئی ہیں اور صبر کے ذریعے انہوں نے مقابلہ کیا ہے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:۔۔۔انبیاء و رسل کی پیروی کرو اور صبر کے طریق کو اختیار کرو، تمہارا وو کچھ بھی نقصان نہیں ہوتا۔۔۔“ اگر تم ایسا کرو گے تو پہلے انبیاء کا کیا نقصان ہو گیا وہ تو ہمیشہ بڑھتے ہی رہے اور بالآ خر دشمن کلیہ ناکام اور نامراد ہو کر رہ گیا۔پس آج بھی وہی حربہ ہے جو استعمال کرنا ہے جو پہلے کامیاب تھا آج بھی کامیاب ہوگا۔وو۔۔۔وہ دوست جو تمہیں قبول حق کی وجہ سے چھوڑتا ہے وہ سچا دوست نہیں ہے اور نہ چاہئے تھا کہ تمہارے ساتھ ہوتا۔تمہیں چاہئے کہ وہ لوگ جو محض اس وجہ سے تمہیں چھوڑتے اور تم سے الگ ہوتے ہیں کہ تم نے خدا تعالیٰ کے قائم کردہ سلسلے میں شمولیت اختیار کر لی ہے ان سے دنگہ یا فساد مت کرو بلکہ ان کے لئے غائبانہ دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ ان کو بھی بصیرت اور معرفت عطا کرے جو اس نے اپنے فضل سے تمہیں دی ہے“۔یہاں دعا کے ساتھ غائبانہ “ کا لفظ لگا دیا ہے۔بعض دفعہ بعض دعائیں لوگوں کو سنانے کے لئے ہوتی ہیں کہ اچھا تم یہ کہ رہے ہو ، ہم یہ دعا دیتے ہیں۔اس میں بھی ایک انانیت کا پہلو ہوتا ہے۔یہ بتانا مقصود ہے کہ تم گندے ہو اور ہم صاف ہیں لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے غائبانہ کا لفظ داخل کر کے خصوصیت کے ساتھ ہماری توجہ اس طرف پھیر دی کہ جب تمہارا دشمن جو تمہاری بدی چاہتا ہے ہر قسم کی زیادتیاں تم پر کر رہا ہے، اس وقت تمہیں دیکھ بھی نہیں رہا اگر تم اس کی ہمدردی میں اس کے لئے دعا کرو گے تو یہ تمہاری سچائی کی علامت ہے اور تمہاری دعا کی قبولیت کا ایک نشان