خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 570 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 570

خطبات طاہر جلد 14 570 خطبہ جمعہ 4 اگست 1995ء گے اور جتنا تم پہ ظلم ہوا ہے اس سے زیادہ ظلم کر بیٹھو گے اور اگر یہ کرو گے تو خود اپنا نقصان کرو گے اور بالآ خر اللہ کی نظر سے گر جاؤ گے۔پس اس خوف سے کہ کہیں ہم اپنے بدلے اتارتے اتارتے اللہ کی نظر سے نہ گر جائیں صبر سے کام لینا بہتر ہے اور جہاں تک ممکن ہے انسان انتقام سے احتراز کرے۔پھر اپنی جماعت سے خطاب کے عنوان سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی نصیحتیں جو ہیں وہ سنئے۔فرماتے ہیں: ”ہماری جماعت کے لئے بھی اسی قسم کی مشکلات ہیں۔جیسے آنحضرت ﷺ کے وقت مسلمانوں کو پیش آئے تھے۔چنانچہ نئی اور سب سے پہلی مصیبت تو یہ ہے کہ جب کوئی شخص اس جماعت میں داخل ہوتا ہے تو معاً دوست، رشتہ دار اور برادری الگ ہو جاتی ہے۔۔۔۔اب یہاں صبر دوسرے معنوں میں ہے۔ایک شخص جو احمدی ہوتا ہے اس کے لئے فور أصبر کا امتحان در پیش ہوتا ہے یعنی ادھر احمدی ہوا، ادھر صبر کے ابتلاء کا ،صبر کی آزمائشوں کا آغاز ہو گیا اور آج کل تو کثرت سے مجھے ایسے خط ملتے ہیں، ایسی اطلاعیں ملتی ہیں کہ ایک خاندان احمدی ہوا ہے اور طرح طرح کے مصائب میں مبتلا ہو گیا ، خود اس کے والدین اس کے دشمن ہو گئے۔اس کو جائیدادوں سے عاق کر دیا گیا بلکہ والدین نے خود بعضوں کو مقرر کیا بدمعاشوں کو کہ اگر یہ بھی قریب آئے تو اس کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالو۔اس قدر سخت مصیبتیں پڑتی ہیں قبول حق کی راہ میں کہ اس کا صبر کے بغیر مقابلہ ہو ہی نہیں سکتا۔ناممکن ہے کہ انسان صبر کے بغیر ان ابتلاؤں سے زندہ بچ کے نکل سکے۔فرماتے ہیں۔۔۔سب سے پہلی مصیبت تو یہی ہے کہ جب کوئی شخص اس وو جماعت میں داخل ہوتا ہے تو معا دوست، رشتہ دار اور برادری الگ ہو جاتی ہے یہاں تک کہ بعض اوقات ماں باپ اور بہن بھائی بھی دشمن ہو جاتے ہیں۔السلام علیکم تک کے روادار نہیں رہتے اور جنازہ پڑھنا نہیں چاہتے۔اس قسم کی بہت سی مشکلات پیش آتی ہیں۔میں جانتا ہوں کہ بعض کمزور طبیعت کے آدمی بھی ہوتے ہیں اور ایسی مشکلات پر وہ گھبرا جاتے ہیں لیکن یاد رکھو کہ اس قسم کی مشکلات کا آنا ضروری ہے۔تم انبیاء اور رسل سے زیادہ نہیں ہو۔ان پر اس قسم