خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 572 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 572

خطبات طاہر جلد 14 572 خطبہ جمعہ 4 اگست 1995 ء بن جائے گا کیونکہ ایسی دعائیں جو تکلیف دینے والے کے لئے کی جاتی ہیں اور اس کو پتا بھی نہیں کہ کیا ہو رہا ہے اللہ تعالیٰ ایسی دعاؤں کو زیادہ قبول فرماتا ہے۔"۔تم اپنے پاک نمونہ ، صاف چال چلن سے ثابت کر کے دکھاؤ کہ تم نے اچھی راہ اختیار کی ہے۔۔۔اب یہ بھی بہت ہی اہم نصیحت ہے۔اگر وہ یہ کہتے ہیں کہ تم بد ہو گئے ہو، تو بد ہو کر تمہیں پاک رسمیں کیسے نصیب ہو گئیں اچھی راہ کیسے مل گئی۔پس نیکیوں میں آگے بڑھو اور ایسا پاک نمونہ دکھاؤ کہ دشمن خود دیکھ لے اور سمجھ لے کہ اس نے جو بھی راہ اختیار کی ہے وہ اچھی ہے اور ہم سے بہتر انسان بن رہا ہے اور بسا اوقات رشتے داروں میں تبلیغ میں سب سے موثر ذریعہ یہی بنتا ہے۔جب وہ تکلیفیں دینے والے تکلیفیں دے رہے ہیں، جو ابا کوئی سختی کا عمل نہیں دیکھتے بلکہ ضرورت کے وقت کام آنے والا بیٹا یہی ثابت ہوتا ہے جو احمدیت اختیار کرنے کے نتیجے میں ان کی طرف سے کاٹا گیا تھا۔جب وہ دیکھتے ہیں کہ پہلے سے بڑھ کر با اخلاق ہو گیا ہے، نمازوں پر قائم ہو گیا ہے،غریبوں کا ہمدرد ہو گیا ہے، بنی نوع انسان کی بھلائی چاہتا ہے تو ایسے نیک نمونے کا بہت گہرا اثر پڑتا ہے اور زبانی تبلیغ کے مقابل پر ایسے شخص کا پاک نمونہ بہت زیادہ قوی اور موثر تبلیغ بن جاتا ہے۔دو کروں۔۔۔۔۔۔دیکھو میں اس امر کے لئے مامور ہوں کہ تمہیں بار بار ہدایت اب مامور تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہیں ہی لیکن خصوصیت کے ساتھ اس امر پر مامور ہوں کہ تمہیں بار بار ہدایت کروں۔یہ ماموریت کا بار بار کے ساتھ جو تعلق ہے یہ دراصل وہی مضمون ہے جو قرآن کریم میں آنحضرت ﷺ کے تعلق میں بیان ہوا ہے فَذَكَّرُ انْ نَفَعَتِ الذِّكْرى (الاعلی (10) اور فَذَكِّرُ إِنَّمَا أَنْتَ مُذَكَّرُ (الغاشية: 22) ان دونوں آیتوں کو اکٹھا پڑھیں تو صاف پتا چلتا ہے کہ بار بار نصیحت کرنا ایسا کہ اس کی شخصیت کا نام صلى الله مذکر بن جائے ، مستقل مذکر ہی کہلائے ، یہ وہ امر ہے جس پر حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کو مامور فرمایا گیا تھا۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی باتیں بھی قرآن ہی کی طرف اشارہ کرتی ہیں اور قرآن ہی سے پھوٹتی ہیں۔آپ فرماتے ہیں میں اس بابت مامور کیا گیا ہوں کہ تمہیں اس