خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 506 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 506

خطبات طاہر جلد 14 506 خطبہ جمعہ 14/ جولائی 1995ء تعلق رکھنے والی ہیں۔رحمت کے نتیجے میں تبلیغ ہو تو کامیاب ہوتی ہے۔رحمت کے نتیجہ میں تبلیغ ہو تو صبر کی توفیق ملتی ہے اور صبر جو ہے پھر دو طرح سے تبلیغ کے کام میں محمد بنتا ہے۔ایک یہ کہ جس پر رحم آئے اور آپ اس کی خاطر کچھ کرنا چاہیں وہ نہ مانے۔بعض دفعہ اولاد ، بعض دفعہ دوست اور قریبی اپنا نقصان کر رہے ہیں آپ کا دل چاہتا ہے کہ ان کی اصلاح کریں رحم جوش میں ہے لیکن وہ مانتے نہیں ہیں آزاد اور خود مختار ہیں تو اس صورت میں رحمت غم میں تبدیل ہوتی ہے، غصے میں نہیں تبدیل ہوتی۔شریکہ غصے میں تبدیل ہو جاتا ہے۔دنیا داریاں جو ہیں یاد نیا دار یوں کے تعلق یہ نفرتوں میں بدل جاتے ہیں۔مگر رحمت ہمیشہ صبر میں تبدیل ہوتی ہے اور صبر کے نتیجہ میں پھر دعا کی توفیق ملتی ہے۔پس صبر کا ایک یہ فائدہ ہے اور یہاں بے اختیاری دعا بنتی ہے اور یاد رکھیں کہ جب رحمت کا جوش ہو اور بے اختیاری ہوتو وہ دعا مضطر کی دعا بن جاتی ہے۔ایسے شخص کی دعا جو کوئی چارہ نہیں پاتا کوئی اختیار نہیں دیکھتا وہ دعا بہت ہی عظیم الشان دعا ہے وہ سب سے زیادہ مقبول ہوتی ہے اور اللہ کی بارگاہ میں جگہ پاتی ہے۔پس حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی رحمت صبر میں ڈھلتی تھی، صبر دعا ئیں بن جاتا تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آپ کی تبلیغ کی کامیابی کا جو نکتہ بیان فرمایا وہ دعا ہی بیان کی ہے۔حالانکہ جو قرآن کریم میں نصیحت کا مضمون ہے وہاں دعا کا ذکر ملتا نہیں۔اُدْعُ إلى سَبِیلِ ربك ( انحل: 126 ) تو ہے لیکن لوگوں کو بلانے کا ذکر ہے اور آگے مضمون نصیحت اور پھر صبر میں ڈھل جاتا ہے اور بظاہر یوں معلوم ہوتا ہے کہ دعا کی ضرورت تو تھی مگر ذکر نہیں فرمایا گیا لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ صبر کا مضمون اگر آپ آنحضرت ﷺ کے حوالے سے سمجھیں تو حقیقت یہ ہے کہ صبر ہی ہے جو دعا کا محرک بنتا ہے اور صبر والے ہی کی دعا ہے جو دراصل مقبول ہوتی ہے، بے صبرے کی دعا کوئی معنی نہیں رکھتی۔خدا کے ہاں تو ہر دعا مقبول ہو سکتی ہے لیکن عام قاعدہ کلیہ کی بات میں کر رہا ہوں کہ جوصبر کرنے والے کی دعا ہے اس دعا میں بھی طاقت ہوتی ہے اور صبر کرنے والے کی بددعا میں بھی طاقت ہوتی ہے۔اس لئے محاورے میں کہا جاتا ہے کہ اس کا صبر اس پر ٹوٹا کیونکہ صبر کے نتیجے میں کیونکہ رحمت سے صبر کا تعلق ہے انسان لمبے عرصے تک کسی کے ظلم برداشت کرتا چلا جاتا ہے اور اس کے خلاف بد دعا کے لئے زبان نہیں کھولتا لیکن ایک ایسا مقام آ جاتا ہے کہ بعض دفعہ خود پیمانہ لبریز ہو جاتا ہے، بعض دفعہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اذن دیا جاتا ہے کہ اب اس پر بددعا کرو تو وہ دعا جو ہے وہ بددعا کی صورت میں