خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 505
خطبات طاہر جلد 14 505 خطبہ جمعہ 14 جولائی 1995ء نفسانی خواہش ہے اعداد کے بڑھنے کی یا محض اللہ کی رضا کی خاطر جس کو تبلیغ کر رہے ہیں اس کا بھلا چاہتے ہیں۔یہ دو ہی صورتیں ہو سکتی ہیں یا کوئی اپنی غرض ہے یا دوسرے کا بھلا۔دوسرے کا بھلا غصے سے تو نہیں چاہا جاتا یہ تو ہو ہی نہیں سکتا کہ کسی کو غصہ آ جائے اور آپ کہہ رہے ہوں میں بھلا چاہ رہا ہوں تمہارا۔رحمت ہی ہے جو دراصل تبلیغ کا محرک ہونی چاہئے اور یہی رحمت تھی جو آنحضرت کی تبلیغ کا محرک تھی۔آپ کو رحم آتا تھا دوسروں پر ، ان کی بدحالی پر ، ان کی بدنصیبی پر، ان کے بد انجام پر۔اور یہ رحم جوش مارتا تھا تو آپ ان کی خاطر تکلیف میں مبتلا ہو کر بھی نصیحت کرتے تھے تو یہی وہ رحمت ہے جو صبر کی توفیق بخشتی ہے۔صبر کا رحمت سے براہ راست گہرا تعلق ہے جتنا کسی سے پیار ہو اتنا ہی زیادہ اس کی طرف سے زیادتیاں انسان برداشت کر سکتا ہے۔بعض مائیں بچوں کو جب دوائیاں دیتی ہیں تو بعض دفعہ بچے غصے میں آکے مارتے ہیں آگے سے، منہ نوچ لیتے ہیں مگر ماں تو ہنستی رہتی ہے یا صبر کرتی ہے اور آخر دوا پلا کے چھوڑتی ہے غصے کی وجہ سے نہیں بلکہ رحمت کی وجہ سے۔پس رحمت کا صبر سے یہ تعلق ہے کہ جتنی رحمت زیادہ ہو اتنا ہی صبر کی توفیق بڑھتی ہے، صبر کا معیار اونچا ہوتا چلا جاتا ہے۔پس آنحضرت ﷺ کو بھی قرآن کریم نے صبر کے مضمون میں سب سے بلند و بالا دکھایا ہے بلکہ صبر کرنے والوں کا اکٹھا کر کرنے کے بعد اگلے مرتبے اور مقام پر محمد رسول اللہ ﷺ کا ذکر کیا ہے جو صبر سے بالا مقام ہے۔اس سے پتا چلتا ہے کہ آنحضور کی تبلیغ کی کامیابی دراصل آپ کی رحمت میں تھی چونکہ رحمت بے انتہا تھی اور سب دنیا پہ چھائی ہوئی تھی اس لیے اسی نسبت اور توفیق سے آپ کو صبر کا بڑا پیمانہ عطا کیا گیا اور صبر کے بڑے پیمانے کو قرآن کریم ذُو حَظِّ عَظِيمٍ (حم السجدہ:36) کے الفاظ سے ظاہر فرماتا ہے۔وَمَا يُلَقْهَا إِلَّا الَّذِينَ صَبَرُ وا یہ جو عظیم کامیابی ہے تبلیغ میں کہ دشمن جاں نثار دوست بن جائے فرمایا وَمَا يُلَقَهَا إِلَّا ذُو حَظِّ عَظِيْهِ اور یہ عظیم توفیق تو دراصل اسی کو مل سکتی ہے جسے صبر میں سے بہت بڑا حصہ عطا کیا گیا ہو، جس کے صبر کا پیمانہ بہت ہی وسیع ہے یعنی محمد رسول اللہ ﷺ کا نام لئے بغیر یہاں آپ کی ایک ایسی صفت بیان فرما دی گئی جو آپ کو تمام دوسرے صحابہ میں ممتاز کر رہی تھی اپنی ذات میں ایک الگ مقام اور مرتبہ بنائے ہوئے تھی۔اس صفت کے حوالے سے میں آپ کی خدمت میں عرض کر رہا ہوں کہ یہ چیز میں اکٹھی ایک دوسرے سے