خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 507 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 507

خطبات طاہر جلد 14 507 خطبہ جمعہ 14/ جولائی 1995ء سب سے زیادہ قوت کے ساتھ دشمن پر بجلی بن کے گرتی ہے اور ہر قسم کی طاقت خدا کی طرف سے نازل ہوتی ہے مگر دعا ہی میں وہ طاقت بنتی ہے جو آسمان سے پھر اترتی ہے اور وہی صبر ٹوٹنا ہے اصل میں۔عام دنیا کے محاورے میں صبر ٹوٹنے سے مراد لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ادھر صبر ہوا اور منہ سے کوئی کلمہ نکلا ادھر کوئی شخص تباہ ہو گیا یہ بالکل غلط بات ہے۔صبر آسمان سے ٹوٹتا ہے اور وہی صبر و شتا ہے جو آسمان پر جاتا ہے اور مقبول ہو کر پھر عذاب الہی بن کر دوبارہ نازل ہوتا ہے۔تو چونکہ یہ ایک بہت ہی خطرناک چیز ہے اور صبر کی بددعا چونکہ قوموں کو ہلاک کر سکتی ہے اسی لئے آنحضرت ﷺ نے اس وقت بڑے جلال کا اظہار فرمایا کہ جو کمز ور صحابہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے بڑے ہی دردناک حالات پیش کئے یا رسول اللہ ! اب تو یہ ہو گیا ہے، یہ ہو گیا، حد ہوگئی ہے کوئی بددعا کی تو اجازت ملے۔بڑے جلال سے آپ نے فرمایا بالکل نہیں، دیکھو تم سے پہلے کیسے لوگ تھے کیا کیا ان پر مظالم ہوئے، کیسے کیسے ان کے سروں کو آروں سے چیر دیا گیا مگر وہ صبر کرتے رہے۔پس بددعا کی بھی اجازت نہ دی لیکن جب اللہ بددعا کی اجازت دیتا ہے تو پھر اس سے زیادہ قوم کی ہلاکت کو یقینی بنادینے والی اور کوئی چیز نہیں ہوتی۔اس ضمن میں گزشتہ سال جرمنی میں جو میں نے بددعا کا ایک مضمون بیان کیا تھا کہ اس کے پیش نظر ان کے جو چوٹی کے علماء ہیں جنہوں نے ظلم کی حد کر دی ہے ان کے خلاف بے شک بددعا کریں۔یہ ایک استنباط تھا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ان الہامات کے مطالعہ سے جو 1894 ء میں ہوئے تھے اور میرا عموماً یہ طریق ہے کہ جس سال میں داخل ہوتا ہوں اس سال کے الہامات پر خصوصیت سے نظر ڈالتا ہوں اور میں یہ دیکھ رہا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام کا کا زمانہ اپنی برکتوں میں بھی اور نشانات میں بھی کئی رنگ میں دہرایا جا رہا ہے اور بعض دفعہ تو سال بدلتا ہے تو یوں لگتا ہے ایک ورق الٹ گیا ہے اب اگلے ورق کی باتیں شروع ہو گئی ہیں پس اس پہلو سے جب میں نے مطالعہ کیا تو اس سال کے الہامات میں نہ صرف اجازت تھی بلکہ حکم تھا کہ اب ان لوگوں پر جو سر براہ ہیں ظلم کے ان پر بے شک دعا کرو اللهم مزقهم كل ممزق و سحقهم تسحیقاً اور پھر قبولیت کے رنگ میں اللہ تعالیٰ نے ان کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا، پارہ پارہ کر دیا، تو میں نے یہ بتایا تھا جماعت کو کہ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ نعوذ باللہ ساری قوم کے لئے بددعا کی جائے۔جو قوم محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب ہوتی ہے اس پر کسی کو بددعا کا حوصلہ نہیں ہوسکتا خواہ وہ کیسا ہی ظلم