خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 503 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 503

خطبات طاہر جلد 14 503 خطبہ جمعہ 14 جولائی 1995ء الله تھی جسمانی لڑائی میں تو کوئی صورت نظر نہیں آرہی تھی کہ وہ ان پر غالب آ سکے، نہ اللہ نے ان کو اس وقت اجازت دی کہ وہ مقابلہ کریں لیکن بددعا کا ایک رستہ کھلا تھا۔چنانچہ ایک موقع پر بعض صحابہ صلى الله حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ہمیں بد دعا کی اجازت دیں یا آپ بھی بد دعا کریں تو آنحضرت علے بستر پر آرام فرما رہے تھے، ٹیک لگا کر بڑے جلال کی حالت میں اٹھ کھڑے ہوئے اور پہلی قوموں کے صبر کے واقعات بیان کئے اور یہ اجازت نہیں دی کہ ان پر بددعا کی جائے۔( بخاری کتاب المناقب) انبیاء بھی جب بد دعا کرتے ہیں یا جب بھی کرتے ہیں تو اللہ کی اجازت سے اور بعض دفعہ اس کے اذن سے کرتے ہیں تو یہ صبر طاقت کا صبر ہے یہ کمزوری کا صبر نہیں ہے۔اس صبر میں اللہ سے انسان کی مشابہت ہو سکتی ہے وہ غالب ہے وہ تباہی کی طاقت رکھتا ہے پھر بھی وہ مہلت دیتا چلا جاتا ہے۔ان معنوں میں جو صبر کے مضمون ہی کے ساتھ تعلق رکھتا ہے انسان بھی اگر مقابلے کی طاقت رکھتا ہو اور مقابلے سے باز رہے اللہ کی رضا کی خاطر یا کسی اعلیٰ قدر کے پیش نظر تو اسے بھی صبر کہا جائے گا۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس مضمون کو یوں بھی بیان فرمایا: گالیاں سن کے دعا دیتا ہوں ان لوگوں کو رحم ہے جوش میں اور غیظ گھٹایا ہم نے (در مشین : 17) اور دوسری جگہ صبر کا لفظ استعمال کر کے بھی اسی مضمون کو باندھا ہے۔کم سے کم انسان بد دعا تو دے سکتا ہے ، گالی کا جواب گالی بھی دے سکتا ہے اور اگر کوئی حاضر نہ ہو تو اسے یہ بھی خطرہ نہیں کہ طیش میں آکر مجھے مارے گا، غائب میں بد کلامی کر سکتا ہے۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان تمام امور میں جو حیرت انگیز صبر کا نمونہ دکھایا ہے دراصل اس کا تبلیغ کی کامیابی سے گہرا تعلق ہے۔اس لئے اگر چہ خدا کا اسم صبر، ہمیں قرآن کریم میں اسم صبر کے معنوں میں دکھائی نہیں دیتا مگر حلم کے مضمون میں اور بعض دوسرے مضامین میں صبر کا مضمون ضرور ملتا ہے۔اگر یہ نہ ہوتا تو صلى الله آنحضرت ﷺ اللہ کے ناموں میں صبور نام داخل نہ فرماتے کیونکہ حضور اکرم وحی سے کلام فرماتے تھے اس لئے بعض اسماء ایسے ہیں جو بطور وحی حضور اکرم ﷺ پر ظاہر فرمائے گئے اور ان میں صبور نام بھی ہے۔