خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 502
خطبات طاہر جلد 14 502 خطبہ جمعہ 14 جولائی 1995ء میں ملتے ہیں اور ترمذی کے آخر پر جو فہرست ہے خدا تعالیٰ کے اسماء کی اس کے آخر پر صبور لفظ خدا کا اسم بتایا گیا ہے اور چونکہ روز مرہ ہم عبد الصبور اور امتہ الصبور نام بھی دیکھتے ہیں تو ظاہر ہے کہ سب اہل علم جنہوں نے یہ نام تجویز کئے وہ خدا کا نام تسلیم کر کے ہی اس کے ساتھ عبد یا امہ کا لفظ لگاتے ہیں ورنہ تو یہ ایک مشر کا یہ نام بن جائے۔پس حدیث کے حوالے سے بھی جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے خدا کا صبور ہونا ایک قطعی بات ہے۔سوال ہے کہ قرآن کریم میں کیوں یہ اہم صفت بیان نہیں ہوئی جبکہ اس کا حق سے بڑا تعلق ہے اور اشاعت حق سے اس کا بہت تعلق ہے۔تو اس پر غور کرتے ہوئے جہاں میں نے احادیث میں صبر کے مضمون کو پڑھا ہے تو یہ معلوم ہوا ہے کہ صبر میں اصل میں بنیادی طور پر دو آزمائشیں انسان کے سامنے ہوتی ہیں ایک غصے کی آزمائش اور ایک رحم کی آزمائش۔جہاں تک رحم کا تعلق ہے وہ آزمائش دو طرح سے ہے کسی دوسرے پر رحم آرہا ہو یا اپنے آپ پر رحم آ رہا ہو، اپنے آپ کو قابل رحم حالت میں پائے کیونکہ یہ دوسرے حصے کا تعلق کسی پہلو سے بھی اللہ کی ذات سے ہو نہیں سکتا اور اس میں محض غصے والی حالت یعنی غضب کی حالت میں ہاتھ روک لینے والا مضمون ہے اس لئے مضمون کے لحاظ سے تو قرآن کریم میں یہ موجود ہے۔یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تمہارے گناہوں پر خدا تمہاری پکڑ کرتا تو وہ زمین پر کوئی جاندار نہ چھوڑتا۔تو یہ دراصل صبر ہی کی صفت ہے مگر اس پہلو سے اسے حلیم کہا جاتا ہے۔حلم ہی دراصل صبر کی ایک شکل ہے اور چونکہ مضمون کے لحاظ سے صبر کا معنی خدا کی ذات میں پایا جاتا ہے اس لئے آنحضرت ﷺ نے اسمائے ذات باری تعالیٰ میں صبور نام کو بھی داخل فرمایا۔خدا کن معنوں میں صبور ہے؟ یہ تو نہیں کہ خدا کے خلاف نعوذ باللہ من ذالک کوئی حملے ہور ہے ہیں اور وہ مجبور کیا جارہا ہے، دردناک حالت میں پہنچ گیا ہے اور صبر کر رہا ہے۔ہاں اس کے برعکس خدا کو غصہ دلانے کی بہت باتیں ہوتی ہیں اتنا زیادہ خدا کے خلاف باغیانہ اور شکر سے عاری رویہ اختیار کیا جاتا ہے کہ اگر ان باتوں پر صبر نہ کرے تو تمام دنیا کو ہلاک کر دے۔پس یہ صبر مجبوری کا صبر نہیں ہے بلکہ حلم کا صبر ہے۔اختیار ہے لیکن اس کے باوجود انسان جوابی کارروائی نہیں کرتا۔اس صبر کے مضمون کو حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ نے دشمنوں پر بد دعا کرنے کے تعلق میں بیان فرمایا ہے۔جہاں تک دشمن پر براہ راست غالب آنے کا تعلق ہے مسلمانوں میں ابتداء جو کمزوری کی حالت