خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 484 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 484

خطبات طاہر جلد 14 484 خطبہ جمعہ 7 / جولائی 1995ء ہیں اور کامل طور پر پیچ ہیں۔اس پہلو سے ظاہر ہے کہ اس لفظ حق کا تعلق سورۃ فاتحہ میں مذکور تمام اسماء سے ہونا چاہئے تھا۔اس کی بعض مثالیں میں پہلے دو خطبات میں پیش کر چکا ہوں۔میں نے یہ بھی بتایا تھا کہ بظاہر رحمن کا تعلق حق سے کوئی نہیں ہے لیکن اگر آپ غور کریں تو رحمن کا حق سے تعلق بھی بنتا ہے۔رحمانیت کے تقاضوں کے وقت بسا اوقات انسان حقیقت کے بیان سے ہٹ جاتا ہے۔ایک ماں کو بچے سے محبت ہے، ایک باپ کو بیٹے سے محبت ہے ، وہاں رحمانیت کا تقاضا یہ ہے یعنی جس کو وہ اپنی رحمانیت سمجھتا ہے یا جھتی ہے اس کا تقاضا یہ ہے کہ رحم کی خاطر اس بچے کو جھوٹ بول کر بچایا جاسکتا ہے تو بچا لیا جائے۔تو انسان کے لئے یہ ابتلاء ہیں اور اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی ابتلاء نہیں ہے اس کی وضاحت میں پہلے بھی کر چکا ہوں اس لئے اس کو دہرا تا نہیں صرف یاد کروارہا ہوں آپ کو کہ اللہ تعالیٰ کو کسی موقع پر بھی جھوٹ بولنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ وہ جوان چار بنیادی صفات سے مزین ہو جورب بھی ہو، رحمن بھی ہو، رحیم بھی ہو اور مالک بھی ہو اس کو کسی موقع پر بھی کسی جھوٹ سے کام لینے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔مگر انسان حمید بھی ہونا چاہتا ہے ایسا رب بننا چاہتا ہے جو صاحب حمد ہو، ایسا رحمن بھی بنا چاہتا ہے جو صاحب حمد ہو، ایسا رحیم بھی بننا چاہتا ہے جو صاحب حمد ہوں، ایسا مالک بھی بننا چاہتا ہے جو صاحب حمدہ ہو اور ان تمام امور میں عاری ہے اپنی ذات میں نہ وہ حقیقت میں قابل تعریف رب بن سکتا ہے نہ قابل تعریف رحمن نہ قابل تعریف رحیم نہ قابل تعریف مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ (البقرہ: 4) تو اس مشکل کا حل کیا ہے۔اس ضمن میں میں پچھلے دو خطبات میں مثالیں دے کر واضح کر چکا ہوں کہ اس مضمون کو سمجھ جائیں تو حل بھی اسی وقت سمجھ آ جاتا ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ ہر وہ صفت باری تعالیٰ جس کے درمیان اور انسان کے درمیان فاصلہ ہے اس کی اس طرح Immitation کرنے سے وہ فاصلہ مٹتا ہے جس طرح خدا میں وہ صفت ظاہر ہوتی ہے اس سے ہٹ کر اگر وہ جلوہ دکھائیں گے جو بظاہر رحمانیت کہلاسکتا ہے مثلاً ، تو اس کے بظاہر موجود ہونے کے باوجود خدا سے تعلق قائم نہیں ہوگا۔یہ جو بیچ دار بات ہے اس کو اسی مثال کے حوالے سے میں دوبارہ کھولتا ہوں جو میں نے حضرت میر حامد شاہ صاحب کی پیش کی تھی۔میر حامد شاہ صاحب کی مثال سے یہ بات واضح تھی کہ آپ اپنے بیٹے سے محبت رکھنے کے باوجود اس محبت سے اس حد تک مغلوب نہیں ہوئے کہ عدل کا دامن چھوڑ دیا ہو اور حق کو چھوڑ دیا ہو۔چونکہ اس پہلو سے وہ خدا کے