خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 485
خطبات طاہر جلد 14 485 خطبہ جمعہ 7 / جولائی 1995ء قریب ہوئے اس لئے آپ کی رحمانیت اور خدا کی رحمانیت میں ایک تشابہ پیدا ہو گیا اس لئے جیسا کہ Tuning Fork میں جہاں ایک نغماتی صوت پیدا کرنے والا آلہ ایک خاص اہر پر نغمہ پیدا کرتا ہے اگر بعینہ اسی مزاج کا آلہ ہو اور اس پہلے آلے کو آپ ہاتھ رکھ کر بند بھی کر دیں تو دوسرے آلے سے وہی آواز اُٹھنی شروع ہو جاتی ہے تو صفاتی ہم آہنگی ایک ایسا گہرا سائنسی راز ہے اور اب تو کھلی ہوئی حقیقت بن چکا ہے کہ صفات باری تعالیٰ میں بھی یہی مضمون کارفرما ہے اور قطعیت کے ساتھ کارفرما ہے یہ کوئی اتفاقی حادثے کے طور پر نہیں بلکہ ایک یقینی صورت حال کے طور پر آپ کو جلوہ گر دکھائی دے گا۔اس مثال کے ضمن میں میں ایک اصلاح بھی کر دینا چاہتا ہوں۔حضرت مصلح موعودؓ نے جو خطبے میں وہ واقعہ بیان فرمایا تھا ایسا اور جگہ بھی کئی دفعہ ہوا ہے، مجھ سے بھی بارہا ہو جاتا ہے، مجھ سے تو زیادہ ہی ہوتا ہے کہ ایک واقعہ سنا ہے اس کا عمومی تاثر تو یاد ہے مگر بعض تفاصیل یاد نہیں اور چونکہ خطبے سے پہلے بسا اوقات تیاری کا موقع نہیں ملتا اور بعض دفعہ تیاری کی بھی ہو کسی مضمون پر تو جو خدا تعالیٰ کی تقدیر چاہتی ہے وہی ہوتا ہے ایک مضمون میں پڑ کر آپ ایک سمت پر چل پڑتے ہیں اور اس سے رُک نہیں سکتے پھر ایک دھارے میں بہتے چلے جاتے ہیں۔ضمناً جو واقعات یاد آتے ہیں وہ ضروری نہیں ہوتا کہ بعینہ اسی صحت کے ساتھ ہوں جیسا کہ اصل میں پیش آئے تھے مگر یہ بات ضروری ہے کہ جس مقصد کے لئے وہ پیش کئے جاتے ہیں اس مقصد کو ثابت کرنے اور حاصل کرنے میں اگر معمولی لفظی غلطیاں رہ بھی گئی ہوں تب بھی وہ پورا کام کرتے ہیں۔پس اس واقعہ سے متعلق تصحیح یہ ہے کہ حضرت میر حامد شاہ صاحب کی ایک بھانجی تھی سیدہ فضیلت بیگم اور ان کے بھائی کے بیٹے تھے۔سید میر عبدالسلام صاحب جو انگلینڈ کی جماعت میں بھی بہت عرصہ رہے ہیں اور ایک مشہور کرکٹر کے طور پر بھی ان کا نام کرکٹ کی جو تاریخی کتابیں ہیں ان میں بھی لکھا گیا ہے، ان کی اولاد ہے یہاں۔ماشاء اللہ ان میں سے ایک آپاشا ما ہیں جو بچپن سے ہمارے گھروں میں سیالکوٹ سے آ کر مہمان ٹھہرا کرتی تھیں، بڑی بہن کی طرح ان سے بہت گہرا پرانا تعلق ہے ،انہوں نے گھر میں جو واقعہ سنا اور ان کے سارے خاندان میں جو جس طرح رائج ہے انہوں نے مجھے بتایا کہ حضرت مصلح موعودؓ نے معلوم ہوتا ہے جب سنا تھا تو بعض باتیں خطبے میں بیان کرتے وقت ذہن میں نہیں رہیں اس لئے چونکہ ایک