خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 483
خطبات طاہر جلد 14 483 خطبہ جمعہ 7 / جولائی 1995ء صفات الہی صرف زبان پر نہیں بلکہ دل میں گھومنی چاہئیں حق کو نہ چھوڑیں خواہ کیسی مشکل آئے۔(خطبہ جمعہ فرمودہ 7 جولائی 1995ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا: گزشتہ دو خطبوں کے دوران میں مثالوں سے یہ بات واضح کر رہا ہوں کہ کس طرح اسماء باری تعالیٰ کا بنیادی تعلق سورۃ فاتحہ ہی میں مندرج اسماء سے ہے اور بعض دفعہ ایک ہی اسم سے جو سورۃ فاتحہ میں مذکور ہے ایک اور اسم پھوٹتا ہے بعض دفعہ ان کے اجتماعی اثر سے ایک اسم پھوٹتا ہے اور جو بنیادی صفات ہیں اللہ تعالیٰ کی ، جو ان اسماء میں سے ہیں جو غیر معمولی شان اور قوت کی صفات رکھنے والے ہیں وہ تمام سورۃ فاتحہ میں مذکور صفات سے مل کر بنتے ہیں۔اس لیے اگر آپ کو یہ سمجھ آ جائے کہ کس طرح وہ ہر ایک صفت سے تعلق رکھتے ہیں تو اس سے یہ بات بھی سمجھ آ جاتی ہے کہ اس اسم کے ساتھ انسان اپنا تعلق جوڑنے کی خواہش کرے جس کے تعلقات سورۃ فاتحہ میں مذکور اسماء سے ہیں تو ہر اسم کے رستے سے وہ تعلق قائم کیا جائے گا اور کامل تعلق وہ ہوگا جو تمام بنیادی صفات کے رستے سے قائم ہو، وہ سب سے اعلیٰ اور افضل تعلق ہوگا۔اس ضمن میں میں ”الحق کی مثال دے رہا تھا کہ خدا سچا ہے یہاں تک کہ اس کا نام محض سچا نہیں بلکہ حق ہے۔اس کی جو بنیادی صفت ہے جس کو ہم اسم بھی کہتے ہیں ”اسم الہی وہ سچ بولنے والا نہیں بلکہ ”الحق“ ہے۔یعنی مجسم سچ ، اس میں سچ کے سوا کچھ بھی نہیں۔اس کی تمام صفات حقہ