خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 453
خطبات طاہر جلد 14 453 خطبہ جمعہ 23 / جون 1995ء اس کی وسعت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا پس سب سے تو زیادہ طاقتور حضرت محمد تھے وہ مجسم حق بن گئے۔اگر آسمان اور زمین پر ایک حق تھا تو اس کا بندوں میں ایک کامل مظہر جس کی کوئی مثال نہیں وہ حضرت اقدس محمد مے تھے تو سب سے زیادہ طاقتور تو آپ کو ہونا چاہئے تھا اور آپ ہی تھے ، آپ ہی کا حق تھا جو اردگرد پھیل رہا تھا اور اس حق کا جب غیروں سے مقابلہ ہوا ہے تو اللہ جو اپنے قوانین کے او پر خود مد بر ہے اس کا یہ فیصلہ تھا کہ میں اس حق کو رفتہ رفتہ کھولوں اور آغاز میں ان کا اتنا مقابلہ کرواؤں کہ میرے اس قانون کے خلاف نہ ہو کہ لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا تو ان کی مادی وسعتوں کی بحث چل رہی تھی ، روحانی وسعتوں کی بات نہیں ہورہی تھی۔مادی لحاظ سے وہ کمزور تھے روحانی لحاظ سے ایسے طاقتور تھے کہ اس کے بعد کبھی کوئی نسل اس سے زیادہ طاقتور نہیں آئی۔پس وہ تابعین جن کو بعد میں ایک کے مقابل پر دس ہی نہیں بلکہ بعض دفعہ ان سے بھی زیادہ پر فتوحات نصیب ہوئیں ان کی روحانی فضیلت پر یہ دلالت نہیں کرتا۔یہ مضمون یہ بتاتا ہے کہ پہلوں نے جو قربانیاں دیں وہ بڑے بڑوں سے بھڑ گئے۔کمزور ہونے کے باوجود ان کو فتوحات ملیں تو قوم کی نفسیاتی حالت میں ایک تبدیلی پیدا ہوئی ہے، قوم کی نفسیاتی حالت میں خود اعتمادی پیدا ہوئی ہے ان کو جراتیں عطا ہوئیں اور ان کی توفیق بڑھی ہے اور جب ایسا ہو تو رعب کا مضمون داخل ہو جاتا ہے۔صلى الله قرآن کریم نے آنحضرت ﷺ کے متعلق یہ فرمایا کہ رعب کی نصرت عطا فرمائی گئی یعنی اس مضمون کو ان لفظوں میں نہیں مگر حدیث نے جو مضمون کھولا ہے اس میں دو تین مرتبہ یہی لفظ استعمال فرمایا ہے کہ مجھے رعب کی نصرت عطا کی گئی ہے۔اللہ نے فرمایا کہ تجھے رعب کی نصرت عطا کی گئی ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو جو الہام ہوا ہے اس میں یہی لفظ ہیں کہ رعب کی نصرت عطا کی گئی۔یہ جو رعب ہے یہ رفتہ رفتہ بنتا ہے، یہ ہوا ہے جو بن جاتی ہے۔جب یہ ہو تو پھر طاقتور خود کمزور ہوتا چلا جاتا ہے۔ادھر اس کی نفسیاتی الجھن یہ بن جاتی ہے کہ وہ خوف زدہ رہتا ہے دل میں جانتا ہے کہ طاقتور ہے بظاہر کمزور بھی ہو تو اس نے غالب آجاتا ہے۔جب یہ دل میں یقین پیدا ہو جائے کہ یہ کمزور ہوتے ہوئے بھی غالب آجائے گا اس کی صلاحیتوں میں کمزوری آجاتی ہے اس کے برعکس جو کمزور ہو جس کو پتا ہو کہ خدا کا دستور ہمیشہ سے یہی ہے کہ ہمیشہ مجھے کمزور ہوتے ہوئے وہ نصرت عطا فرماتا ہے وہ اور زیادہ طاقتور ہوتا چلا جاتا ہے۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس طرح خدا دشمنوں سے کمزوروں کو بھڑا تا