خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 454 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 454

خطبات طاہر جلد 14 ہے، توفیق دیتا ہے۔454 خطبہ جمعہ 23 / جون 1995ء اور حق جو ہے اس کے دو پہلو ہیں ایک خدا کا نور ہونا۔خدا کا نور ہونے کے نتیجے میں ہی اعضاء بدن میں تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں اور امت مسلمہ کے اعضاء بدن وہ صحابہ تھے جو آنحضرت کے اردگرد تھے ان میں جس حق نے سرایت کر کے پاک تبدیلیاں پیدا فرما ئیں اور انہیں عظیم طاقتور قوم میں تبدیل کیا اس تبدیلی کی روح محمد مصفی ہو رہے تھے اور آپ ہی تھے جو حق کے نمائندہ بن کر ان کو حق میں تبدیل کر رہے تھے۔پس جدو جہد کے بغیر تو غلبہ ہو ہی نہیں سکتا لیکن قانون یہی ہے جو میں نے بیان کیا ہے کہ کمزور پہلے سے بڑھ کر طاقتور ہوتا چلا جاتا ہے اور کمزور ہونے کے باوجود جب بھی خدا اسے غیر سے بھڑاتا ہے اس کو فتح عطا فرماتا ہے۔اپنے مقاصد میں وہ جیتتا ہے اور غیر ہار جاتے ہیں۔اب انہوں نے پوری کوشش کی تھی پاکستان میں تمام قسم کے قوانین جو سوچے جا سکتے تھے۔احمدیت کی راہ روکنے کے لئے وہ بنا دیئے۔ہر قسم کی سزائیں جو پیغام حق پہنچانے کے نتیجے میں احمد یوں کو مل سکتی تھیں وہ دے دی گئیں۔سب رستے روک دیئے گئے۔لٹریچر کی اشاعت بند ہو گئی۔مگر یہ جو مضمون ہے۔جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ یہ کمزوری میں بھی جلوہ گر ہوتا ہے اور باطل کی کوششوں کو خدا نا کام بنا کر دکھا دیتا ہے۔پس آپ دیکھ لیں کوئی ایک ایسا سال نہیں ہوا جس میں نعوذ باللہ من ذالک احمدی مرتدوں کی تعداد ان غیروں میں سے احمدی بننے والوں سے بڑھ گئی ہو۔بہت نمایاں فرق رہا ہے۔ہمیشہ پھر جو مرتد ہوئے وہ تمام تر وہ ہیں ان سب کی تاریخ ہمارے پاس ریکارڈ میں محفوظ ہے۔جو پہلے ہی نام کے احمدی تھے اور کردار کے گندے تھے، کئی قسم کی خرابیاں کئی قسم کے فساد تھے نہ مسجدوں میں آنے والے، نہ نمازوں کا شوق رکھنے والے، نہ چندوں کی قربانیوں میں آگے آنے والے ایک قسم کی جوٹھ تھی جو ساتھ لگی ہوئی تھی اور اللہ نے ان کو جو کامیابی دی ہے وہ یہ ہے کہ ہم سے باطل کو الگ کر کے اس باطل میں ملا دیا ہے۔یہ کیا کامیابی ہوئی ان کے لئے ، میرا مطلب ہے ان کی کامیابی بھی ہماری ہی کامیابی بنتی ہے۔اگر ہم میں سے اچھے لوگ وہ کھینچ لیتے جن سے وہ امیدیں لگائے بیٹھے تھے کہ بہت اچھے لوگ ہیں جن پر سوسائٹی کی نظر تھی کہ ہاں یہ احمدی تو ہیں مگر ہیں بہت شریف ، ایک ہی نقص ہے کہ احمدی ہیں، ان میں سے کتنے انہوں نے لیے ، ایک بھی نہیں لیا۔تو یہ جو باطل کے مقابل پر حق