خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 452
خطبات طاہر جلد 14 452 خطبہ جمعہ 23 / جون 1995ء کہ اس جماعت کا حق ذات سے تعلق ہے۔پس اگر حق سے تعلق ہو تو یہ فیصلہ کہ کون جیتے گا؟ یہ ہمیشہ اس بات پر منحصر ہو گا کہ کس کا حق سے تعلق ہے؟ دشمن کے زیادہ یا کم ہونے سے اس کا کوئی تعلق نہیں اور جب دشمن اتنازیادہ ہو کہ کسی کی توفیق نہ ہو کہ خدا کے بنائے ہوئے قوانین کو توڑے بغیر وہ دشمن پر غالب آجائے تو اللہ تعالیٰ خود اپنے قوانین نہیں تو ڑتا۔یہ نہیں کہا کرتا یہ حق ہے اس نے غالب آنا ہے، اچانک اس کو سب دنیا سے لڑا دو پھر تدبیر فرماتا ہے۔اور ایک دوسری آیت میں بعینہ یہی مضمون کھول کر بیان فرمایا ہے کہ حق جب آتا ہے تو پھر کیا کچھ ہوتا ہے پھر اللہ مد بر الامربن کے ظاہر ہوتا ہے وہ تدبیریں اختیار کرتا ہے اور ایک وقت میں اپنے بندوں کولڑا تا تو طاقتوروں سے ہے مگر اتنے طاقتوروں سے نہیں لڑا تا کہ دنیا کا قانون توڑے بغیر یا خدا کا قانون توڑے بغیر وہ فتح یاب ہو جائے یعنی اتنے طاقتوروں سے نہیں لڑاتا کہ خدا کا قانون توڑے بغیر ہی وہ فتح یاب ہو سکے۔مراد یہ ہے کہ اگر خدا یہ فیصلہ کرتا ہے کہ مومنوں میں آج اتنی طاقت ہے کہ ایک دو پر غالب آئے گا اور کل اتنی طاقت ہوگی کہ ایک دس پر غالب آئے گا تو جب تک وہ کل نہیں آیا، جب تک مومن اتنا طاقتور نہ ہو جائے اس وقت تک ایک کو دس سے نہیں بھڑا تا اور ہمیشہ ایسی تدبیریں کرتا ہے کہ دشمن اپنی غالب طاقت کے ساتھ حملہ آور ہو ہی نہیں سکتا۔ان کے ارادے بنتے ہیں بکھر جاتے ہیں ان کو اکٹھا ہونے کی توفیق نہیں ملتی اگر وہ کوشش کرتے ہیں اکٹھا ہونے کی تو آپس میں پھر لڑائیاں شروع ہو جاتی ہیں۔تو یہ تدبیر سے تعلق رکھنے والی باتیں ہیں مگر بندے کی تدبیر نہیں یہ حق کی تدبیر ہے اور جب تدبیر کرتا ہے تو ایک بات ظاہر ہوتی چلی جاتی ہے کہ دن بدن کمزور لڑتا تو طاقتور سے ہے لیکن رفتہ رفتہ طاقتور سے لڑنے کی اس میں صلاحیت پیدا ہوتی چلی جاتی ہے۔اور یہ مضمون آنحضرت ﷺ کے زمانے میں آپ کے غلاموں کے عمل سے قطعی طور پر ثابت ہوتا ہے۔اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ اولین نسبتاً خدا کے کم پیارے ہوتے ہیں بلکہ یہ ایک اور مضمون ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جب ایک کمزور کو ایک طاقتور سے لڑایا جائے تو نفسیاتی لحاظ سے اس میں رفته رفته خوداعتمادی پیدا ہوتی ہے اور ایک دم زیادہ بڑے سے لڑنے کی اس میں صلاحیت نہیں ہوتی اور اللہ تعالیٰ کا قانون ہے کہ لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا (البقره: 287) اللہ کسی نفس پر