خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 451 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 451

خطبات طاہر جلد 14 451 خطبہ جمعہ 23 / جون 1995ء مٹادیں گے۔پھر اللہ تعالیٰ کی تقدیر کچھ فیصلے کرتی ہے، کچھ وہ ہیں جو مٹتے چلے جاتے ہیں کچھ وہ ہیں جو نشو ونما پاتے چلے جاتے ہیں اور پھیلتے چلے جاتے ہیں اور یہ جو بات ہے یہ حق ذات سے ہوتی ہے اور حق سے تعلق کے نتیجے میں ہوتی ہے اور حق سے تعلق کے کچھ تقاضے ہیں جن کو بہر حال پورا کرنا ہوگا۔دوسری جگہ اللہ تعالیٰ جنگ بدر کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ تم چاہتے تھے کہ تمہارا مقابلہ نسبتا چھوٹے قافلے سے ہو جہاں فائدے زیادہ ہوں اور نقصان کم ہو لیکن اللہ کا اور مقصد تھا کہ ان کی طاقت کے اوپر ضرب لگائی جائے اور طاقتور سے تمہیں بھڑ دیا جائے کیونکہ اللہ اس تدبیر سے باطل کی جڑیں اکھیڑنا چاہتا تھا۔اب مومنوں نے تو آسانی چاہی تھی وہ تو ایسا ظہور حق چاہتے تھے کہ سورج نکلا اور اندھیرے بھاگ گئے اور اس میں حرج کوئی نہیں اگر ایسی خواہش کی جائے مگر کس طرح اللہ مومنوں کو بھڑاتا ہے غیروں سے اور ان کی جڑیں اکھیڑ دیتا ہے پھر۔چنانچہ فرماتا ہے کہ تو تَوَدُّونَ أَنَّ غَيْرَ ذَاتِ الشَّوْكَةِ تَكُونُ لَكُمْ تم چاہتے تھے کہ تم ان سے ٹکراؤ جن کے پاس ہتھیار نہ ہوں۔چھونے کیلئے کاٹنے نہ ہوں کم سے کم تکلیف سے تم زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا جاؤ وَيُرِيدُ اللهُ أنْ تُحِقَّ الْحَقِّ بِكَلِمَتِهِ وَيَقْطَعَ دَابِرَ الْكَفِرِينَ (الانفال: 8) اور اللہ یہ چاہتا ہے کہ اپنے کلمات کے ذریعے حق کو حق کر دے اور لوگوں کو سمجھ آئے کہ حق کا غالب آنا ہوتا کیا ہے۔کس طرح غیر معمولی مخالفانہ طاقتوں پر حق غالب آیا کرتا ہے اور جدوجہد کے نتیجے میں آیا کرتا ہے از خود نہیں آجایا کرتا وَ يَقْطَعَ دَابِرَ الْكَفِرِينَ اور کافروں کی جڑیں کاٹ ڈالے اس مقصد سے اللہ نے تمہیں طاقتوروں سے لڑا دیا۔اب یہ ہے حق کا مضمون جو سمجھنے کے لائق ہے۔طاقتور سے اگر کوئی کسی کولڑا دے تو کمزور کے لئے تو ہلاکت کا پیغام ہے اور اگر طاقتور کسی کمزور سے لڑ پڑے اور اس کو مٹا دے تو اس میں طاقتور کے حق پر ہونے کا کوئی بھی ثبوت نہیں ملتا۔یہ وہ مضمون ہے جس کو خوب سمجھنا چاہئے کیونکہ اللہ تعالیٰ حق کی باتیں کر رہا ہے۔حق ہوتا کیا ہے اور اس کے نشانات کیا ہیں؟ اور اگر ایک طاقتور دشمن اُٹھ کر ایک کمزوری جماعت کے متعلق فیصلہ کرے کہ ہم اسے مٹادیں گے۔اگر مٹا بھی دے تو طاقتور کا حق پر ہونا ثابت نہیں ہو سکتا لیکن اگر مثانے میں ناکام ہو جائے اور اگر جب بھی ٹکر لگے تو کمزور غالب آئے اور پھیلتا چلا جائے اور طاقتور سے مزید طاقتور ہوتا چلا جائے یہ ہے حق کی نشانی ، یہ اس بات کی نشانی ہے