خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 450 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 450

خطبات طاہر جلد 14 450 خطبہ جمعہ 23 / جون 1995ء ذکر نہیں ملتا بلکہ متنبہ فرمارہا ہے کہ تم ان کو خوشخبریاں دو گے لیکن وہ مقابل پر کوشش کریں گے کہ تو تمہیں صفحہ ہستی سے مٹادیں۔اب احمدیت کے متعلق بالکل یہی مضمون ہے۔جو صادق آ رہا ہے۔ایک سو سال سے ہم دیکھ رہے ہیں۔ہم محض پاک نیتوں کے ساتھ دنیا کی بھلائی کے لئے ان کو اچھا پیغام دے رہے ہیں جانتے ہیں کہ اس میں زندگی ہے، جانتے ہیں کہ اس میں دلوں کی سکینت ہے اور ہر احمدی گواہ ہے کہ احمدیت سے باہر بے اطمینانی اور بے چینی ہے احمدیت کے دائرے میں آکے کایا پلٹ جاتی ہے انسان ایک نئی دنیا میں بسنے لگتا ہے۔ایسی دنیا جس میں بعض دفعہ باہر کے لوگ بھی جب جھانک کے دیکھتے ہیں تو وہ کہتے ہیں یہ تو ایک جزیرہ ہے اس کا اس دنیا سے کوئی تعلق نہیں۔مختلف قسم کے لوگ پیدا ہو چکے ہیں اور یہ جزیرے ہر جگہ بن رہے ہیں اور ہر جگہ، ہر ملک میں ان جزیروں کے دائرے بڑھ رہے ہیں مگر کیسے بنتے ہیں، کیا جدو جہد ہوتی ہے؟ اس کی طرف بھی تو دھیان کرو یہ اچانک کوئی تر لقمہ تو نہیں ہے جو منہ میں داخل کر دیا جاتا ہے۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ باطل زور لگاتا ہے، ایڑی چوٹی کا زور لگاتا ہے کہ تمہیں مٹا دے۔چنانچہ جنرل ضیاء الحق جب زندہ تھے۔تو انہوں نے یہ اعلان کیا تھا تمام دنیا میں اس اعلان کو اخباروں میں شائع کیا گیا۔یہاں کی ان کی ایمبیسی کے نمائندے نے لندن میں ختم نبوت کانفرنس میں آکر ضیاء الحق کی طرف سے یہ اعلان پڑھ کر سنایا۔اس اعلان کا خلاصہ یہ تھا کہ میں اور میری حکومت اس بات پر تلے بیٹھے ہیں ، ہم فیصلہ کئے ہوئے ہیں ، ہم تہیہ کئے ہوئے ہیں کہ احمدیت کے کینسر کی جڑیں اکھیڑ کر پھینکیں گے۔جہاں جہاں یہ ہوگی تمام دنیا سے اس کی جڑیں اکھیڑ پھینکیں گے تو کہاں گیا وہ جڑیں اکھیڑنے والا ، اس کی اپنی جڑیں اکھیڑی گئیں۔اس کے نتیجے میں خدا تعالیٰ نے ان متکبروں سے کیا سلوک کیا جو احمدیت کے لئے مخالفت میں وقف ہو چکے تھے اور احمدیت کو دیکھیں کہ جگہ جگہ دنیا کے مختلف ممالک میں وہ جڑیں قائم ہوتی چلی جارہی ہیں۔تو یہ تو درست ہے کہ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ جب حق آتا ہے تو باطل بھاگ جاتا ہے مگر نام رکھنے سے کچھ نہیں بنتا۔باطل بھی یہی دعوی لے کر اُٹھتا ہے کہ ہم حق پر ہیں تو بعض دفعہ ضیاء الحق نہیں ہوتی وہ ضیاء باطل ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ نے اسی مضمون کو کھول کر بیان کیا ہے۔تم یہ آواز دے کر اٹھے ہو کہ ہم حق ہیں ہم آئے اور تم مٹ جاؤ گے۔مخالف کہتا ہے کہ ہم حق ہیں اور ہم فیصلہ کر چکے ہیں کہ تمہیں اس صفحہ ہستی سے