خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 422
خطبات طاہر جلد 14 422 خطبہ جمعہ 19 جون 1995ء خدا کی طرف لوٹا یا جا سکتا ہے۔چندے کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ہر چیز کا وہ مالک ہے۔اس لئے بجائے اس کے کہ اس کو مٹی میں پھینک دو یا کوئی اور شخص اُٹھا کے اس کو استعمال کرے تو تم خدا کی طرف اس اصول کے پیش نظر لوٹاؤ کہ مالک کل وہ ہے اور مال اپنی ذات میں جو خدا کی طرف لوٹے گا وہ گندہ نہیں ہو سکتا۔ہاں اگر سود دکھانے والا سود کی کمائی چندہ کے طور پر دیتا ہے۔تو خبیث مال ہے اس لئے اس مال سے چندہ دیا ہی نہیں جاسکتا۔یہ وہ حکمت ہے جس کے نہ سمجھنے کے نتیجے میں بعض لوگوں کے دلوں میں سوال اُٹھتا ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے کہیں اشارہ بھی وہ سود کا روپیہ جو بنک دیتے ہیں۔ان کو چندے میں دینے کا ذکر نہیں فرمایا۔آپ نے فرمایا یہ تمہاری ملکیت نہیں ہے کیونکہ تمہیں سود کی کمائی لینے کا حق ہی کوئی نہیں۔جب تمہاری ملکیت ہی نہیں رہی تو سودی پہلو اس سے جھڑ گیا ہے۔کیونکہ سودی ملکیت کا تصور جو ایک مال کے رشتے کو ایک آدمی سے باندھتا ہے اس تصور میں خباثت ہے جب تم مالک رہے ہی نہیں اس کے تو وہ سود بھی نہ رہا۔کچھ بھی نہ رہا۔اب وہ ایک مال ہے اسے کیا کرو۔آپ نے فرمایا کہ اگر تم نہ لو گے تو بطور مال کے عام طور پر اس زمانے میں یہ ہوتا ہے کہ بنک ایسے مال کو جس کا مالک نہ ہو۔اس کو چرچ کو دے دیا کرتا تھا اور حکومت کے کچھ ایسے قوانین تھے۔تو آپ نے فرمایا اب اس کی حیثیت صرف مال کی رہ گئی ہے۔تم نے استعمال نہیں کیا تم نے چندہ دیا نہ کھایا نہ کسی اور مصرف میں لائے اس مال کو اب کیا کرنا ہے کہاں پھینکنا ہے۔اگر تم خدا کی طرف نہیں لوٹاؤ گے تو خدا کی مخالفانہ طاقتوں کی طرف لوٹ جائے گا۔اس لئے اس کو خدا کی طرف لوٹا دو کہ اے خدا تو مالک کل ہے۔تیرا مال اور میں اس سے اپنا نا جائز تعلق جو قائم ہوا تھا میں کاٹ دیتا ہوں۔تو سود کی حلت کا کوئی اشارہ بھی اس فیصلے میں نہیں پایا جاتا اور حرمت کا تعلق چونکہ نیت سے ہے اس لئے اپنی نیت سے وہ چندے دے ہی نہیں رہا۔اس کا خدا کے حضور خبیث مال پیش کرنے کا سوال ہی کوئی نہیں۔جو دے گا اس کو پتا ہے کہ میرا ایک کوڑی کا بھی اس میں ثواب نہیں کیونکہ میری ملکیت نہیں۔پس وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ ہم اس کو بعض غریبوں پر خرچ نہ کر دیں۔بعض اپنے عزیزوں پر خرچ نہ کر دیں کیونکہ سود کی مناہی تو در حقیقت غریبوں کی حق تلفی کے لئے کی گئی ہے۔تو میں ان کو یہ لکھتا ہوں کہ آپ کی چیز ہی نہیں ہے آپ کس طرح خرچ کر سکتے ہیں۔جو دنیا میں خدا کی ملکیت کا نمائندہ نظام