خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 421
خطبات طاہر جلد 14 اس کا کوئی حرج نہیں ہے۔421 خطبہ جمعہ 19 جون 1995ء وہ لوگ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے فیصلے کی فراست اور گہرائی سے واقف نہیں ہیں۔ان کو یہ تضاد دکھائی دیتا ہے حالانکہ اس میں کوئی تضاد نہیں۔دو باتیں ہیں جو آپ کو اچھی طرح مال کے معاملے میں سمجھنا چاہئے۔مال فی ذاتہ نہ خبیث ہوسکتا ہے، نہ پاک ہوسکتا ہے۔مال والے کے ساتھ اس کا جو تعلق ہے وہ اسے خبیث یا پاک قرار دیتا ہے۔ایک کنچنی جو مال کماتی ہے جب وہ مال اپنے اوپر خرچ کرتی ہے تو وہ خبیث مال ہے اگر اسے اپنی طرف سے خدا کے حضور پیش کرتی ہے تو خبیث مال ہے لیکن اگر وہ مال پھینک دے اور کوئی اُٹھائے اور نیک اور پاکباز انسان ہو اور یہ سمجھتے ہوئے کہ اس کا کوئی وارث نہیں وہ کسی غریب کو دے دے یا کسی اچھے کام پر لگا دے تو مال اپنی ذات میں گندہ نہیں ہو سکتا۔اس لئے کنچنی جب اپنے مال سے کوئی چیز خریدتی ہے تو دکاندار اس مال کو گندہ کر کے ایک طرف نہیں پھینکتا۔اگر وہ جانتا بھی ہو کہ یہ کسی عورت کا ہے اور اس نے غلط طریقے پہ مال کمایا تھا تو اس کا اس کے ساتھ جو معاملہ ہے وہ محض تجارت کا معاملہ ہے اور اگر دکاندار نے بد دیانتی کوئی نہیں کی تو وہ مال جب دکاندار کے ہاتھ میں آتا ہے۔تو پاک ہوتا ہے۔اس لئے مال فی ذاتہ گندہ ہو ہی نہیں سکتا۔نہ مال فی ذاتہ اچھا ہو سکتا ہے۔ہاں کھانے پینے کی چیزیں فی ذاتہ گندی بھی ہو جاتی ہیں اور اچھی اور طیب بھی ہوتی ہیں۔اب رہا یہ مضمون کہ سود کو کیا کرنا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کسی سود کی کمائی والے کو یہ نہیں کہا کہ اپنی طرف سے اسے چندہ دے دو کیونکہ جب وہ اپنی طرف سے چندہ دے گا تو اپنی طرف سے، اپنی نیت سے، اپنے گندے مال کو خدا کے حضور پیش کر رہا ہوگا اور یہ گستاخی بھی ہے اور گناہ بھی ہے۔جو مال وہ سمجھتا ہے کہ خبیث ہے وہ اپنی طرف سے دے سکتا ہی نہیں۔اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ نہیں فرمایا کہ تم چندہ دے دو۔آپ نے فرمایا نہ یہ چندہ نہ اس کا کوڑی کا ثواب ملے گا۔سوال صرف یہ رہ جاتا ہے کہ ایک مال ہے اگر تم نے اپنے تعلق سے اس کو کاٹ دیا تو اس کی خباثت ختم کیونکہ سوداگر تم استعمال کرتے ہو تو وہ سود بن جاتا ہے اور خباثت کہلاتا ہے۔جب تم اپنی ذات سے اس کا تعلق کاٹ دیتے ہو تو محض مال ہے۔اس کے خرچ میں تمہاری کوئی نیت نہ ثواب کی نہ جزاء کی کچھ بھی نہیں ہے۔آپ نے فرمایا ایسے مال کو تم کیا کرو گے۔آپ نے فرمایا