خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 423
خطبات طاہر جلد 14 423 خطبہ جمعہ 19 جون 1995ء ہے اس کے سوا اس مال کو کسی کو خرچ کرنے کا حق نہیں۔اس لئے آپ آنکھیں بند کر کے اس طرح واپس کر دیں خدا کو کہ تیرا نظام اس دنیا میں تیری نمائندگی کر رہا ہے وہ اس روپے کو جہاں چاہے خرچ کرے ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں ہمارا تعلق ٹوٹ گیا۔ہمارا پیسہ ہے ہی نہیں اور جب آپ کا پیسہ نہیں رہا تو وہ سود کا پیسہ نہیں رہاوہ اسی طرح ایک مال بن گیا جیسے مال چکر کھاتا رہتا ہے ہاتھوں میں اس سے زیادہ اس کی کوئی حیثیت نہیں رہتی۔تو یہ ضمنا میں نے یہ مسئلہ چھیڑا ہے مگر آخر پر میں بنگلہ دیش کی جماعت کو بھی اور یوگنڈا کی جماعت کو بھی متوجہ کرتا ہوں کہ مالی لحاظ سے بھی حمید خدا کی طرف لوٹیں اور دنیا کے اموال کی کچھ پرواہ نہیں نہ کریں لیکن جو دے گا اور خدا کو اخلاص کے ساتھ دے گا اللہ اس کے ساتھ برکت کا سلوک فرمائے گا اور وہ اپنے خدا کو غنی اور حمید پائے گا اور جو نہیں دے گا اور کنجوسی کرے گا تو وہ کنجوسی اپنے خلاف کرے گا اور خدا کی غناء اس کے لئے استغناء بن کر ابھرے گی اور اس سے بے پرواہ اور مستغنی ہو جائے گی۔اس لئے اس کی بھی پرواہ نہ کریں کہ کوئی آدمی جسے ناجائز طور پر آپ عزت نہ دیں، عہدے نہ دیں۔وہ اپنی خدمت کا ہاتھ کھینچ لے گا۔اگر وہ کھنچے گا تو اللہ کوفی اور حمید پائے گا۔اور اللہ سے بہت زیادہ مؤثر خدمت کرنے والے نظام جماعت کو عطا کرے گا۔یہ وہ کامل تو حید کا پہلو ہے جو غنی اور حمید کے تعلق سے ہمارے سامنے ابھرتا ہے۔اس پر قائم رہیں اور اللہ پر توکل کریں اور اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو اور اس پر عمل کرنے کے نتیجے میں آپ دیکھیں گے کہ ہر پہلو سے خدا کے فضل کے ساتھ برکتوں کی بارشیں نازل ہوں گی اور دنیا کے ان مبارک حصوں سے آپ الگ نہیں رہیں گے۔جہاں آج خدا کے فضل سے موسلا دھار بارشوں کی صورت میں نازل ہورہے ہیں۔اللہ ہمیں اس کی توفیق دے۔آمین۔