خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 382 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 382

خطبات طاہر جلد 14 382 خطبہ جمعہ 26 رمئی 1995ء کے لائق بات یہ ہے کہ اسلام کا نام لفظ سلام ہی سے لیا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی مسلمان اس وقت تک مسلمان کہلانے کا مستحق ہی نہیں جب تک کہ وہ سلام خدا سے اپنا تعلق نہ جوڑ لے اور جب وہ سلام خدا سے تعلق جوڑے گا تو بنی نوع انسان اس کے شر سے محفوظ ہو جائے گی اور وہ جس کے شر سے بنی نوع انسان محفوظ ہو جائے محض اس لیے کہ اس نے سلام خدا سے تعلق باندھا ہے تو اللہ رفتہ رفتہ اس کو بنی نوع انسان کے شر سے محفوظ کرتا چلا جاتا ہے اور دن بدن اس کا سفر سلامتی کے بعد ایک اور سلامتی کی طرف اٹھتا ہے اور ایک اور سلامتی کے بعد پھر ایک اور سلامتی میں وہ داخل ہوتا ہے اور یہ لامتناہی سفر سلام کا سفر ہے۔یہاں تک کہ انسان جب مرنے کے بعد خدا کے حضور پیش ہوگا تو جنت میں بھی قرآن کریم فرماتا ہے کہ سلام کے لفظ سے اس کا استقبال کیا جائے گا۔سلم قَوْلًا مِنْ رَّبِّ رَّحِيمٍ (بین : 59) رَّبٍ رَّحِيمٍ کی طرف سے اس کو سلام کا پیغام پہنچے گا۔کیونکہ اب وقت ختم ہو چکا ہے اس لئے میں اس پہلو پر چند لفظ کہہ کر آپ سے اجازت چاہوں گا کہ آپ نے بھی دنیا میں سلام خدا کی نمائندگی کرنی ہے۔اس کے بغیر یہ دنیا امن کا گہوارہ بن نہیں سکتی۔جن ملکوں میں آپ ہیں ان میں طرح طرح کی بدامنیاں ہیں، طرح طرح کے خطرات ہیں، ایک انسان دوسرے انسان سے محفوظ نہیں یہاں تک کہ بعض مظلوم بچے اپنے ماں باپ سے بھی محفوظ نہیں جن سے ان کو سب سے زیادہ حفاظت کی توقع ہوتی ہے۔Child abuse کے Cases عام ہیں۔چوری، دغا بازی ، دھوکہ، فساد، ڈاکے، چند پیسوں کی خاطر قتل، ہر قسم کے جرائم جو دنیا میں پھیلتے ہیں یہ خدا سے دوری کا نتیجہ ہیں۔پس آپ چونکہ سلام خدا کے نمائندہ ہیں جب تک آپ سلام سے اپنا تعلق نہیں جوڑتے آپ پر بھی سلامتی نازل نہیں ہوسکتی اور آپ دنیا کے لئے بھی سلامتی کا موجب نہیں بن سکتے۔سلام خدا سے تعلق جوڑنے کا یہ طریق نہیں کہ آپ لفظ سلام، سلام دہراتے رہیں۔سلام خدا کے اس مضمون پر غور کریں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تفسیر کے حوالے سے میں نے آپ کے سامنے رکھا ہے تو لازم ہے کہ اگر سلام خدا سے آپ کو محبت اور تعلق ہے تو آپ اپنے لئے سلام کی صفات اپنانے کی کوشش کریں گے۔جو صفات سلام خدا کی آپ کے سامنے رکھی گئی ہیں ان کو اپنی ذات میں پرکھ پر کھ کر الٹ پلٹ کر دیکھتے رہیں کہ وہ صفات آپ کی ذات میں موجود اور محفوظ ہیں کہ نہیں۔اگر آپ سے دنیا کو آج خطرہ نہیں ہے اور کل خطرہ ہو تو پھر سلام