خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 381
خطبات طاہر جلد 14 381 خطبہ جمعہ 26 مئی 1995ء اب وہ بادشاہ جو اپنی انسانی مجبوریوں کی وجہ سے بار بار ظلم کا سہارا لینے پر مجبور ہو جاتا ہے۔جب مخلوق فاقے کر رہی ہے اور اس کو اپنی سلطنت کو بچانے کے لئے زیادہ خرچ کی ضرورت ہے تو ظالمانہ ٹیکس بھی لگاتا ہے۔کئی طرح کے حیلے بنا کر وہ آخر اپنی مخلوق کی تکلیف کے برتے پر اپنی خوشی حاصل کرتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ وہ خدا جو الْمَلِكُ الْقُدُّوسُ ہے اس سے چونکہ کسی ظلم کا کوئی خطرہ نہیں اس لئے اس کے بعد فرمایا السلم یعنی وہ خدا اسلام ہے خود بھی ہر قسم کے خطرے سے بالا پاک ہے اور تمام مخلوق بھی اس کی طرف سے ہر قسم کے خطرے اور تکلیف سے پاک اور محفوظ ہے یہ معنی ہیں السلام کے اور السلم کو خدا نے الْمَلِكُ الْقُدُّوسُ کے ساتھ اس لیے جوڑا کہ وہ بادشاہ جو ہر قسم کے عیب سے پاک ہو گا اس کی طرف اس کی رعایا کو کوئی خطرہ نہیں وہ لازماً امن میں ہے۔ورنہ بادشاہ جو نقائص رکھتا ہے اس کی رعایا کو کبھی کبھی خود اس بادشاہ کی طرف سے خطرہ درپیش ہوگا اور پھر اس کے برعکس بھی درست ہے۔ایسے بادشاہ کو کبھی بھی پوری طرح امن نصیب نہیں ہوتا جو نقائص سے پاک نہ ہو اور بسا اوقات اپنی رعایا کی طرف سے اس کو خطرہ درپیش ہوتا ہے اور جتنے ظلم بادشاہتوں کی طرف سے منسوب کیے جاتے ہیں اس کی مرکزی وجہ یہی ہے کہ اگر اور نگ زیب نے بھائیوں کی آنکھیں نکلوائیں اور باپ کو قید کیا اور بڑے بڑے مظالم کے سلوک کئے تو بہت داغ دار بن کر اس کی شخصیت ابھرتی ہے لیکن اس کی ایک مجبوری تھی جو ہر بادشاہ کے ساتھ لگی ہوئی ہے کیونکہ وہ ان کی طرف سے نہ اپنے باپ کی طرف سے امن میں تھا نہ اپنے بھائیوں کی طرف سے امن میں تھا۔تو السلام کہہ کر یہ فرمایا کہ الْمَلِكُ الْقُدُّوسُ ہے داغوں سے پاک بادشاہ ہے۔یہ اپنی مخلوق کی طرف سے امن میں ہے اس کو اپنی مخلوق کی طرف سے کوئی بھی خطرہ نہیں ہے اور چونکہ اپنی مخلوق کی طرف سے اس کو خطرہ نہیں ہے اس کا برعکس بھی درست ہے کہ اس کی مخلوق کو بھی اس کی طرف سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔بس وہ السلام ہے کامل سلامتی ہے اور اگر کسی نے سلام ڈھونڈ نا ہو نفس کا سکون تلاش کرنا ہو، طمانیت حاصل کرنی ہو، دنیا کے خطروں سے بچنا ہو اور اپنے شہر سے دوسروں کو محفوظ کرنا ہو تو سلام خدا سے اس کا تعلق جوڑ نالازمی ہے۔یہ وہ مضمون ہے جو اس الہی صفت یا اسم الہی پر غور کرنے سے ہمیں سمجھ آتی ہے اور یا در کھنے