خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 383
خطبات طاہر جلد 14 383 خطبہ جمعہ 26 رمئی 1995ء سے آپ کا کوئی تعلق نہیں کیونکہ سلام کی صفت زمانے سے پاک ہے۔بسا اوقات یہ ہوتا ہے کہ ایک انسان اچھے حال میں ہے، کھاتا پیتا ہے ، وہ اپنے دوستوں سے جو معاملہ کرتا ہے ان کو کوئی خطرہ نہیں ہوتا کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اس کو ضرورت کوئی نہیں ہے بے وجہ ہمیں تنگ نہیں کرے گا مگر کل کو حالات بدل جاتے ہیں، کل کلاں کو اس پر ایسی مصیبت ٹوٹتی ہے کہ وہ مفلوک الحال ہو جاتا ہے۔پھر بھی اگر وہ سلام ہی ہے اور پھر بھی اگر دوسروں کے اموال کو اس کی طرف سے کوئی خطرہ نہیں تو یہ وہ تعلق ہے جو اس کا سلام خدا سے قائم ہو چکا ہے اور اگر یہ تعلق قائم ہو جائے تو پھر انتہائی تکلیف کے وقت بھی اس کے لئے مایوس ہونے کا کوئی مقام نہیں کیونکہ واقعہ ہے اور اس میں ایک ذرہ بھر بھی شک نہیں کہ جو لوگ خدا یعنی سلام خدا سے تعلق جوڑتے ہیں ان کی ہر بدامنی سلامتی میں تبدیل کی جاتی ہے۔چنانچہ مسلمانوں سے جو خدا نے وعدہ فرمایا آیت استخلاف میں مذکور ہے اس وعدے میں یہ بات مرکزی طور پر بیان فرمائی کہ وَلَيُبَدِ لَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ آمَنَّا ( النور : 56) کہ خدا یہ عہد کرتا ہے کہ وہ مسلمان جو خلافت کے ساتھ وابستہ رہیں گے اور اپنے آپ کو خدا کا خلیفہ سمجھتے ہوئے اس کے حق ادا کریں گے ہم ان کے ہر خوف کو امن میں تبدیل کر دیں گے۔پس یہ سلام خدا سے تعلق ہے جس کی جزا ہے اور دنیا کو آج صفت سلام کی بے انتہا ضرورت ہے۔اندرونی طور پر ، بیرونی طور پر گھروں میں، گلیوں میں ، شہروں میں ہلکوں میں ہر طرف بدامنی پھیلتی جا رہی ہے۔پس آپ سلام بنیں گے تو دنیا کے لئے سلامتی کی کوئی امید ہوگی۔آپ جو خدا کے نمائندہ ہیں اگر آپ نے سلام بن کر نہ دکھایا تو اس دنیا کے امن کے لئے کوئی ضمانت نہیں ہے۔اللہ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔آمین