خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 358 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 358

خطبات طاہر جلد 14 358 خطبہ جمعہ 19 مئی 1995ء روشنی ڈال رہے ہیں۔اسی میں سے میں نے کچھ حصہ پڑھ کر سنایا تھا اور پھر ان امور کی طرف توجہ مبذول ہوئی۔اب یہ سفر کرنے کے بعد میں واپس اس حصے کی طرف آتا ہوں۔فرمایا: وو وہ عالم الشهاده ہے یعنی کوئی چیز اس کی نظر سے پردے میں ،، نہیں ہے۔یہ جائز نہیں کہ وہ خدا کہلا کر پھر علم اشیاء سے غافل ہو یہ جائز نہیں کہ وہ خدا کہلا کر پھر علم اشیاء سے غافل ہو یہ کیا معنی ہیں۔جائز نہیں صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس سے کسی بھلائی میں کمی آجاتی ہے اور خدا کے درجہ کمال پر حرف آتا ہے اور کوئی شرکا پہلو ظا ہر ہوتا ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کا ہر علم پر ہمیشہ حاضر کی طرح مسلط رہنا اس علم کی ضمانت دیتا ہے کہ وہ خیر ہے اور اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ اس علم میں کوئی رخنہ نہیں آئے گا۔اگر یہ نہ ہوتو کائنات کا نظام از خود جاری رہ ہی نہیں سکتا۔یہ بہت بڑی جہالت ہے کہ اتنا بڑا نظام ایک خود طبعی حرکت کی صورت میں رواں دواں ہے اور کوئی تصادم نہیں ہے اور اگر سفر کو ہم دیکھتے ہیں تو Chaos سے تنظیم کی طرف جاری ہے۔اور جس کو ہم Chaos سمجھتے ہیں وہ بھی ہمیں دکھائی دیتا ہے لاعلمی کے نتیجے میں Chaos مگر Chaos کہیں نہیں ہے - Chaos کہتے ہیں فساد کو کسی چیز کے درہم برہم ہونے کو کسی چیز کے غیر منضبط ہونے کو، کوئی قانون نہ چل رہا ہو،اندھیر نگری ہو،اندھیر نگری اور چوپٹ راجہ والا مضمون اس کو Chaos کہا جاتا ہے۔سائنس دان بڑی مصیبت میں مبتلا ہیں اس وجہ سے کہ وہ جانتے ہیں کہ Chaos کا تنظیم میں بدلنا کسی بیرونی طاقت کو چاہتا ہے اور ایک منظم کو چاہتا ہے ورنہ تنظیم از خود Chaos سے پیدا نہیں ہو سکتی۔اب اس ضمن میں بہت بڑے بڑے کمپیوٹرز کے ذریعے وہ یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ Chaos سے اتفاقا نظم وضبط بھی پیدا ہوسکتا ہے اور وہ مضامین آپ پڑھیں تو پتا لگتا ہے کہ کیسی بچگانہ حرکت ہے، خدا سے دور ہٹنے کی۔اس سے انکار کے لئے پورا زور لگا رہے ہیں لیکن کوئی پیش نہیں جارہی کیونکہ اب سائنس ان مضامین میں داخل ہو چکی ہے جہاں خدا دکھائی دینا چاہئے۔اور یہ بھی ایک غیب کے سفر کا لطف ہے۔جب آپ غیب سے حاضر کی طرف سفر کرتے ہیں خواہ سفر کسی سمت میں بھی ہو۔خواہ وہ مادی دنیا کی تحقیق کا ہی سفر ہو۔ہر ایسا سفر جہاں آپ غیب سے