خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 359
خطبات طاہر جلد 14 359 خطبہ جمعہ 19 مئی 1995ء حاضر کی تلاش میں آگے بڑھتے ہیں وہ آپ کو خدا کے قریب لے جاتا ہے اور یہی مضمون ہے جو قرآن کریم ان الفاظ میں بیان فرماتا ہے فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللهِ (البقره: 116) لوگ سمجھتے ہیں یہاں صرف مشرق و مغرب مراد ہیں ، ہرگز نہیں۔تمام کائنات میں ہر جہت سے جس قسم کا بھی آپ سفر اختیار کریں آگے خدا کو پائیں گے۔یہ سفر نیکی کا ہی ہونا ضروری نہیں بدی کے سفر میں بھی آگے خدا کو پائیں گے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں مثال بیان فرماتا ہے ان لوگوں کو جو مادہ پرست ہیں اور دنیا کی لذات کی پیروی کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وہ کرتے چلے جائیں پیروی، ان کی آگ بھڑکتی چلی جائے گی، جیسے سمندر کا پانی پیاس نہیں بجھا سکتا ان کی پیاس بجھے گی نہیں بھڑکتی چلی جائے گی اور ایک سراب ہے جس کی طرف وہ سفر کر رہے ہیں اور جہاں وہ سمجھتے ہیں پانی ہے وہاں پہنچتے ہیں تو پانی اور آگے چلا جاتا ہے۔آخر پر اللہ فرماتا ہے جب یہ سفر ختم ہوگا تو وہاں خدا کو پائیں گے۔تو اس لئے کوئی یہ کہے کہ جی یہ تو نیکی کے سفر میں خدا ملتا ہے بدی میں کیسے مل گیا۔دراصل شیطان کی حقیقت اپنی ذاتی کوئی نہیں ہے۔ہر چیز کا آخر خدا ہے۔اول والآخر کا ایک یہ بھی مفہوم ہے۔جہاں سے آپ نے سفر شروع کیا وہاں خدا ہے وہ سفر جہاں انجام کو پہنچے گا وہاں خدا ہو گا اور شیطان سراب ہے اصل میں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے شیطان کی یہی تعریف فرمائی ہے۔فرماتا ہے وہ تم سے دھو کے کے وعدے کرتا ہے ان میں کچھ بھی نہیں غرور کے سوا تم سے اور کوئی وعدہ نہیں کرتا اور غرور کہتے ہیں فرضی کہانیوں کو جن میں کوئی حقیقت نہ ہو ، ایسے وعدے جو سبز باغ دکھانے والے ہوں جبکہ سبز باغ ہو کوئی نہ۔اسی لئے شیطان کا نام خدا تعالیٰ نے غرور رکھا ہے یعنی ایسا دھو کے باز جو دھو کے کے وعدے کرتا ہے اور اصل چیز ہے ہی کچھ نہیں اس کے پاس،اس کے پاس گناہ کی لذت بھی نہیں وہ بھی انسان اللہ کے نظام سے چوری کر کے لیتا ہے۔تو فرمایا آخر پر جب وہاں پہنچے گا تو خدا ہی دکھائی دے گا خدا کے سوا کچھ بھی نہیں۔پس ہر حرکت جس سمت میں بھی ہو خدا کے قریب لے جاتی ہے۔اس دور میں اب سائنس دان داخل ہو چکے ہیں جب ان کو خدا کی قربت سے خوف آنے لگا ہے۔گھبرانے لگے ہیں کہ ہم تو جس سفر میں خدا کو مدتوں پیچھے چھوڑ آئے تھے آگے پھر وہی۔اس مصیبت سے نجات پانے کے لئے وہ بہانے بنارہے ہیں اور کچھ پیش نہیں جاتی۔یہ Chaos والا مضمون ہے۔میں نے پڑھا ہے