خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 31 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 31

خطبات طاہر جلد 14 31 خطبہ جمعہ 13 جنوری 1995ء کر بات کی تو پھر ایک دو آدمی اٹھ کر چلے گئے اور باقی پھر بیٹھے رہے۔تو دو تین دفعہ اس طرح ہوا تو آخر حضرت خلیفہ اسیج اول نے فرمایا کہ عوام الناس تو چلے گئے ہیں اب چوہدری بھی چلے جائیں۔مراد یہ تھی کہ جو اپنے آپ کو بڑا سمجھتے ہیں وہ عام حکم سے اپنے آپ کو مستقلی سمجھنے لگتے ہیں اور چوہدری سے مراد زمیندار چوہدری نہیں بلکہ چوہدراہٹ کا ایک تصور ہے کہ میں عامتہ الناس نہیں، میں بڑا ہوں۔تو یہ بیان فرمایا اور واقعہ یہ ہے کہ جو شخص اپنے آپ کو اندرونی طور پر بڑا سمجھ رہا ہو اس کو پتا ہی نہیں لگتا کہ مجھ سے کوئی مخاطب ہورہا ہے۔تو جب میں یہ خطبات دیتا رہا ہوں تو بہت سے ایسے لوگ ہیں جو اپنے آپ کو اعلیٰ اخلاق پر پہلے سے فائز سمجھ رہے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہ ہمارے متعلق نہیں کسی اور کے متعلق باتیں ہو رہی ہیں۔یہ جو کہا ہے کہ بد خلقی نہ کرو تو ضرور میری بیوی کی بات ہورہی ہے میری بات نہیں ہو رہی اور شاید وہ پہلے سے بھی بڑھ کر بیوی پر سختی کر رہے ہوں کہ خطبہ نہیں سنا تم نے ، ابھی بھی تم اسی طرح بد تمیزی سے بات کر رہی ہو تو ہر انسان اپنی بدتمیزی کے لئے بھی کچھ ایسے حجرے تعمیر کر لیتا ہے جن میں قلعہ بند ہو کے بیٹھ جاتا ہے اور بیرونی باتیں اس پر اثر انداز ہی نہیں ہوتیں۔ہر انسان اپنے آپ کو نہیں دیکھ سکتا تو لوگوں کی نظر کے آئینے سے ہی دیکھنے کی کوشش کرے۔ایک شخص جس سے سوسائٹی تنگ آئی ہو یہ کیسے ہوسکتا ہے اس کو پتا نہ لگے کہ میرے خلاف باتیں ہورہی ہیں لیکن ہوتی ہیں تو وہ کہتا ہے دیکھو سارے میرے پیچھے پڑگئے ہیں۔بس لوگوں کو عادت ہے اٹھ کر میرے خلاف باتیں شروع کر دیتے ہیں۔حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ اس میں کچھ حقیقت ہوتی ہے۔دنیا یونہی کسی کے پیچھے نہیں پڑا کرتی بلکہ کچھ بد خلقیاں ظاہر ہوتی ہیں جس کے نتیجہ میں رفتہ رفتہ سوسائٹی دور ہونے لگتی ہے۔تو اپنی فکر کرو، اپنے اخلاق کی نگرانی کرو اور اگر اپنی آنکھ سے دکھائی نہیں دے رہا تو معاشرے کی آنکھ سے دیکھنے کی کوشش کرو کہ تم کیا ہو۔غالب نے ایک موقع پر اس مضمون کو یوں بیان کیا: گرمی سہی کلام میں لیکن نہ اس قدر کی جس سے بات اس نے شکایت ضرور کی کہ سختی سہی لیکن یہ تو نہیں کہ جس سے بھی بات کرو وہ شکایت کرے اور جو شکایت کرے تم اس کے پیچھے پڑ جاؤ کہ دیکھو یہ بھی ایک اسی طرح کا ہو گیا ، مجھ معصوم پر یہ بھی برسنے لگ گیا تو جب