خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 32
خطبات طاہر جلد 14 32 خطبہ جمعہ 13 جنوری 1995ء سب دنیا با تیں کرتی ہے تو اسے نقارہ خدا بھی کہا جاتا ہے یعنی اللہ کی آواز ہوتی ہے لوگوں کی زبانوں سے بلند ہوتی ہے۔پس وہ لوگ جن کے ساتھ معاشرہ ایسا سلوک کر رہا ہے کہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ لوگ بدخلق ہیں ان کو تسلیم کر لینا چاہئے ، اپنی عادتیں بدلنی چاہئیں اور وہ کرنا چاہئے جس کو قرآن کریم دعوت الی اللہ کے لئے ایک کامیاب گر کے طور پر پیش فرماتا ہے فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ (حم سجدہ: 35) فرمایا دو ستم کے سفر ہیں ، یہاں تو ایک سفر کا ذکر کیا ہے۔ایک سفر وہ ہے جو میں بیان کر چکا ہوں کہ دوست ہے وہ بھی دشمن بنتے چلے جاتے ہیں۔قریبی ساتھ چھوڑ دیتے ہیں، بیٹیاں خط لکھتی ہیں باپ کے عذاب سے بچنے کے لئے دعا کی خاطر اور ایک سفر وہ ہے جو قرآن کریم دعوت الی اللہ کا سفر بیان کرتا ہے فرماتا ہے فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ اس سفر میں تمہاری صفات ایسی ہونی چاہئیں کہ وہ جو تمہاری جان کا دشمن ہو رفتہ رفتہ تمہارے حسن خلق سے متاثر ہو کر وہ تم پر اپنی جان نچھاور کرنے والا دوست بن جائے۔یہ صفات تم میں ہوں تو تم کامیاب داعی الی اللہ بن سکتے ہو ورنہ نہیں بن سکتے۔تو دعوت الی اللہ کا کتنا گہرا راز خدا تعالیٰ نے ہمیں سمجھا دیا اور یہ راز اعلیٰ اخلاق کے بغیر سمجھ آہی نہیں سکتا اور یہ وہ سفر ہے جو اعلیٰ اخلاق کے بغیر طے ہو ہی نہیں سکتا۔پس آپ اپنے خلق کو اس طرح ڈھالیں اور یہ بات اگر بھول بھی جائیں کہ آپ پہلے کیا تھے تو کم سے کم آئندہ کے لئے یہ واضح مقصد اپنے پیش نظر رکھیں کہ آپ نے دوستوں کو دشمن نہیں بنانا، ہرایسے موقع سے احتراز کرنا ہے جہاں دوست دشمن بن جاتے ہوں اور اس کے برعکس ہرایسا کام کرنا ہے جس سے دشمن دوست بنتا ہو۔اللہ فرماتا ہے اگر ایسا کرو گے تو پھر تم کامیاب ہو اور یہ مضمون دعوت الی اللہ کا ہے وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا مِمَّنْ دَعَا إِلَى اللَّهِ وَعَمِلَ صَالِحًا (حم سجده: 34) یہاں سے بات شروع ہوئی ہے۔اس سے بہتر بات کہنے والا اور کون ہوسکتا ہے جو اللہ کی طرف بلائے لیکن خود حسن عمل سے اپنے قول کی سچائی کو ظاہر کر دے۔ایسے نیک اعمال والا ہو کہ اگر وہ خدا کی طرف بلائے تو اس کی بات میں اس کے عمل کی وجہ سے حسن پیدا ہو کوئی تضاد نہ ہو۔یہ مضمون بیان کرتے ہوئے آخر اس بات پر پہنچایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو دشمن کو بھی جاں نثار دوست میں تبدیل