خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 30 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 30

خطبات طاہر جلد 14 30 30 خطبہ جمعہ 13 جنوری 1995ء میں یہ طاقت نہیں ہے اس کے لئے اتنا بڑا دل، اتنا بڑا حوصلہ، اتنی بڑی وسعت چاہئے اور اس پہلو سے خدا جب آنحضرت ﷺ پر ظاہر ہوا ہے تو آپ کے مکارم اخلاق سے جو سفر شروع ہوا ہے اس کے نتیجے میں آپ کی قلبی اور روحانی وسعتوں کے مطابق نازل ہوا ہے۔پس روزمرہ کی زندگی میں بھی یہ طور والے واقعات تو نہیں پیش آتے مگر کہانی وہی ہے۔ازل سے یہی کہانی ہے درجہ بدرجہ دہرائی جاتی ہے کہیں تھوڑی، کہیں زیادہ۔پس اپنے اخلاق کی فکر کریں اگر آپ بد خلق ہوں تو کیا یہ درست نہیں کہ دنیا بھی آپ کو چھوڑ کر الگ ہو جاتی ہے۔اپنے بچے بھی جدا ہو جاتے ہیں ، بیویاں واویلے کرتی ہوئی طلاقوں کی درخواستیں دینے لگتی ہیں۔تو جس شخص کا یہ حال ہو اس کا یہ گمان کہ میں بہت نیک ہوں اور اللہ مجھ سے محبت کرتا ہے جہالت کے سوا کچھ بھی نہیں۔جس کے بیوی بچے متنفر ہو جائیں ، جس کا ماحول اس سے بھاگے ، ہمسائے پناہ مانگیں اور وہ اس خیال میں زندگی گزار دے کہ میں خدا کا پیارا ہوں اور میں نمازیں پڑھ لیتا ہوں اور میرے لئے بہت کافی ہے ، یہ بالکل جھوٹ ہے ، جہالت کی زندگی ہے۔پس اپنے اخلاق کی حفاظت کریں ورنہ آپ دنیا میں نہ گھر میں کامیاب ہو سکتے ہیں، نہ ہی وطن میں کامیاب ہو سکتے ہیں اور ساری دنیا کو اپنی محبت میں گرفتار کر کے جو آپ نے ان کی اصلاح کرنی ہے اس کی باتیں محض خواب کی باتیں ہیں، ایک دیوانے کی بڑ ہے اس سے زیادہ اس کی کوئی حیثیت نہیں۔تو جتنا میں اخلاق پر زور دے رہا ہوں اس کے کچھ نیک نتائج بھی نکل رہے ہیں لیکن بعض ایسے ضدی ہیں جو اپنی ضد پر اسی طرح قائم ہیں۔اصل میں جب یہ آواز ان تک پہنچی ہے تو چونکہ وہ خدا کو بھلا بیٹھے ہیں اس لئے اپنے نفس کو بھی بھلا چکے ہوتے ہیں۔وہ سمجھتے ہیں کسی اور کی بات ہورہی ہے اور یہ ایک ایسا گہرا نفسیاتی نکتہ ہے جو ہمیشہ کارفرما ہوتا ہے اور جہاں بھی ہوتا ہے لوگ اپنے حال سے اندھے ہی رہتے ہیں۔بعض لوگ اپنا ایک مقام سمجھ رہے ہوتے ہیں وہ اس سے ہٹ کر سوچ بھی نہیں سکتے۔ایک دفعہ حضرت خلیفۃ اسیح اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کسی سے کوئی بات کرنی تھی اور مجلس لگی ہوئی تھی۔تو آپ نے فرمایا کہ مجھے کچھ بات کرنی ہے پرائیویٹ یا مجھے یاد نہیں کہ کیا عذر اس وقت پیش فرمایا تھا آپ نے مگر یہ بات کھل کر سامنے لے آئے کہ بہتر ہے کہ جو لوگ بیٹھے ہوئے ہیں بے وجہ وہ اٹھ کر چلے جائیں۔تو ایک آدھ آدمی اٹھا ہے باقی سب بیٹھے رہے پھر آپ نے دوبارہ کھول