خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 29 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 29

خطبات طاہر جلد 14 29 29 خطبہ جمعہ 13 جنوری 1995ء معاملے میں آپ روز مرہ انسانی تعلقات کے دائرے میں غور کر کے دیکھیں وہ شخص جو اعلیٰ خلق رکھتا ہے وہ رفتہ رفتہ دلوں کو جیتتا چلا جاتا ہے۔اس سے جب آپ بات کرتے ہیں، کوئی معاملہ کرتے ہیں، کبھی غلطی بھی کرتے ہیں تو اکثر اس کا رد عمل ایسا ہوتا ہے کہ اس کے نتیجے میں ایک بدخلق انسان بھی سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے اور بعض دفعہ زیادتی کرنے والا بھی اگر اس میں کوئی زندگی کی رمق باقی ہو وہ زیادتی چھوڑ کر اس جیسا بننے کی کوشش کرتا ہے جو اس کا اخلاق کے لحاظ سے محسن اور معلم ہو۔تو اللہ تعالیٰ سے جب انسان اپنی عبادتوں میں یا روز مرہ کے معاملات میں ایک تعلق قائم کرتا ہے تو یہ فیصلہ کہ وہ تعلق کہاں تک اس کو لے جائے گا یہ اس شخص کے اپنے خلق پر منحصر ہوتا ہے۔جتنا اعلیٰ خلق کا انسان ہو گا اتنا ہی اس کا سفر زیادہ بلندی کی طرف، زیادہ اعلیٰ مقام اور مراتب کی طرف اس کو لے جائے گا اور اسی مضمون کو آنحضرت علیہ نے یوں بھی بیان فرمایا انا عند ظن عبدی بی که اللہ نے مجھے اطلاع دی ہے کہ میں اپنے بندے کے اپنے متعلق ظن کے مطابق ہو جاتا ہوں۔وہ مجھے جیسا گمان کرتا ہے ( اور اس گمان کے مطابق سلوک کرتا ہے یہ اس میں شامل ہے ) میں اسی طرح اس کے لئے ہوتا چلا جاتا ہوں۔تو ایک شخص کا اخلاق کا دائرہ چھوٹا ہو تو خدا کی ذات لا متناہی ہے اس کے برتن میں خدا اتنا ہی آئے گا جتنا اس کے اخلاق کا دائرہ ہوگا اور ظرف کے مطابق خدا ڈھلے گا۔پس أَنَا عِندَ ظَنِّ عَبْدِی بُي ( بخاری کتاب التوحید ) کا مطلب ہے کہ میں ہر شخص کے ظرف کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالتا ہوں۔اس لئے اگر تم چاہتے ہو کہ میرے سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھاؤ تو اپنے ظروف بڑے کرو کیونکہ میں پورا تو تمہارے اندر آ ہی نہیں سکتا مگر تمہیں باقیوں کے مقابل پر اپنے اندر کم دکھائی دیا تو تمہارے برتن کا قصور ہے ، میرا قصور نہیں۔یہ جو ظرف کا مضمون ہے یہی ہے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے اور آنحضرت ﷺ کے تعلقات ،آپ کی ایک دوسرے کے مقابل پر جو حیثیت تھی اس کو ظاہر کرنے کے لئے قرآن کریم میں استعمال فرمایا ہے۔موسیٰ نے کہا اے خدا مجھے دکھا اپنا چہرہ۔اللہ نے کہا تجھے ظرف نہیں ہے حالانکہ موسی“ پر بھی تو خدا ظاہر ہوا تھا۔وہ کیا بات تھی کہ جب بلایا کہ آمیرے پاس اور آگ میں سے ایک آواز آئی ، روشنی نکلی۔تو وہ اگر رویت نہیں تھی تو کیا چیز تھی۔تو ایک طرف یہ بات ہے دوسری طرف انکار ہو رہا ہے کہ نہیں تو مجھے نہیں دیکھ سکتا اس سے مراد صرف یہ تھی کہ وہ آنحضرت مﷺ پر جلوہ گر ہونے والے خدا کو دیکھنا چاہتے تھے اور اللہ نے فرمایا کہ تجھ