خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 341
خطبات طاہر جلد 14 پہنچ سکتے ہیں۔341 خطبہ جمعہ 12 مئی 1995ء انسانی تاریخ بتا رہی ہے جب بھی انسان نے ضرورت کے وقت ان سہولتوں میں ہاتھ بڑھایا جہاں خدا نے خزانے رکھے تھے تو وہاں تک اس کی رسائی ہوئی۔تقدیر الہی کو ، اذن الہی کو دخل تو ہے اور آخری فیصلہ وہی کرتی ہے لیکن بڑھانے والا ہاتھ بھی ضرور بڑھنا چاہئے اس کے بغیر اللہ تعالیٰ رحیمیت کا جلوہ نہیں دکھاتا۔رحمانیت کا جلوہ تو اس کے بغیر بھی ظاہر ہوتا رہتا ہے۔اب ہمیں ہر لمحہ رحمانیت کی ان معنوں میں ضرورت ہے کہ آکسیجن خدا نے فضا میں رکھ دی ہے اور متناسب مقدار میں رکھی ہے اگر زیادہ ہوتی تو ہمیں ہلاک کر دیتی۔وہ آکسیجن سوچے بغیر ہر وقت استعمال کر رہے ہیں ہاتھ بڑھانے کی بھی ضرورت نہیں ہے اور بعض ہاتھ طبعی تقاضوں پر بڑھتے ہیں سوچوں سے کوئی تعلق نہیں۔پیاسے کا ہاتھ پانی کی طرف بڑھے گا ، بکری کا منہ بھوکی ہو تو گھاس کی طرف جائے گا، بچے کا منہ ماں کے دودھ کی طرف اٹھتا ہے اور جانوروں کے بچوں کا بھی یہی حال ہے۔تو سارے رحمانیت کے تقاضے ہیں جن میں سوچوں کا کوئی دخل نہیں۔مگر جب انسان کی سطح پر پہنچ کر رحمانیت سے باشعور تعلق قائم ہوتا ہے اور ایک سوچ بنتی ہے اور اس کے نتیجے میں تقاضے پیدا ہوتے ہیں پھر رحمانیت وہ جلوہ دکھاتی ہے جو حاضر جلوہ ہے، یہ شہادت کا جلوہ ہے۔عالم شہادۃ میں ہر انسان روزانہ یہ استطاعت رکھتا ہے، خدا کی دی ہوئی استطاعت کے ساتھ ظاہر بات ہے، یہ استطاعت رکھتا ہے کہ جب بھی کوئی کام ایسا کرے جو رحمانیت سے متصادم نہ ہو تو ضرور رحیمیت کا جلوہ دیکھے اور جس طرح رحمانیت کا فر اور مومن میں فرق نہیں کرتی اور اس پہلو سے رحیمیت بھی کا فراور مومن میں فرق نہیں کرتی کیونکہ رحمانیت ہی کی ایک صورت ہے۔رحیمیت جو عالم شہادۃ سے خصوصیت سے تعلق رکھتی ہے۔اب آپ یہ مغربی دنیا کے سائنس دانوں کو دیکھیں انہوں نے کیا کیا ہے، کون سانیا تیر چلایا ہے۔جو کچھ کیا ہے صرف یہ ہے کہ اللہ کی رحمانیت کے جلووں کو جہاں جہاں پہچانا وہاں ان کی پیروی کی اور ان تقاضوں کو پورا کیا جو وہ جلوے تقاضے کرتے تھے۔ایک بچے نے بھاپ کے ذریعے ڈھکنے کو اٹھتے ہوئے دیکھا، اب عام آدمی سوچے گا کہ اس میں کون سے رحمانیت ہے لیکن بھاپ میں جو طاقتیں پوشیدہ تھیں ان تک اس وقت تک انسان کی نظر نہیں تھی۔بھاپ اٹھتی تھی ہر جگہ سے کبھی دھند بن کر اٹھ رہی ہے، کبھی چیز میں گرم ہورہی ہیں، پانی ابل